بلیک ہول کا ناممکن راستہ
فرض کریں ایک مسافر دلدل کے کنارے کھڑا ہے۔ اس کے نقشے پر دلدل کے بیچ ایک خوبصورت راستہ بنا ہے، لیکن وہ قدم رکھنے سے پہلے اپنی چھڑی سے زمین کو ٹٹولتا ہے کہ کیا وہ اس کا وزن اٹھا سکے گی۔ سائنسدان بھی بالکل ایسا ہی کرتے ہیں۔ وہ کائنات کے بنیادی اصولوں کی چھڑی سے چیک کرتے ہیں کہ کیا کاغذ پر بنی کوئی خوبصورت ریاضی حقیقت میں ممکن ہے یا محض ایک سراب ہے۔
کائنات میں سب سے بڑی اور انجان دلدل بلیک ہول ہے، خاص طور پر یہ راز کہ اس کے اندر جانے والی معلومات کا کیا ہوتا ہے۔ حال ہی میں کچھ ماہرین نے اس کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ انہوں نے ایک ریاضیاتی خاکہ پیش کیا جس میں دکھایا گیا کہ بلیک ہول میں پھنسی معلومات کیسے باہر نکلتی ہیں۔ یہ پرانے معمے کا ایک شاندار حل لگ رہا تھا۔
ایک نئی ٹیم نے اس راستے کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کائنات کی سب سے مضبوط چھڑی استعمال کی، یعنی علت اور معلول کا قانون، جس کا مطلب ہے کہ ہر نتیجے کی پہلے کوئی وجہ ہونی چاہیے۔ جیسے مسافر دیکھتا ہے کہ زمین ٹھوس ہے یا نہیں، ان سائنسدانوں نے چیک کیا کہ کیا یہ نیا خاکہ وقت اور خلا کی حدوں کو مانتا ہے۔
جب انہوں نے اس ریاضی کو ٹٹولا تو پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ ٹیم کو پتہ چلا کہ اس نئے خاکے کو سچ ثابت ہونے کے لیے علت اور معلول کے بنیادی اصولوں کو توڑنا پڑے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے نقشے پر کوئی دریا الٹا بہہ رہا ہو۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اس خوبصورت حل کے لیے جو ہندسے درکار ہیں، وہ طبعی دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
اس دریافت نے ایک حالیہ غلط فہمی کو دور کر دیا۔ بلیک ہول سے معلومات نکلنے کا وہ راستہ محض ایک ریاضیاتی وہم نکلا جو ناممکنات کی دلدل میں دھنس گیا۔ اگرچہ بلیک ہول کا اصل راز ابھی حل نہیں ہوا، لیکن اس غلط راستے کو مٹا دینے سے اب آنے والے مسافر دلدل میں نہیں پھنسیں گے اور ان کی تلاش ٹھوس حقیقت پر قائم رہے گی۔