دھند میں چمکتی نیلی روشنیاں
رات کے وقت ایک چوڑی ندی پر کاغذ کی ہزاروں کشتیاں تیر رہی تھیں۔ دھند اتنی گہری تھی کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہر کشتی کی بناوٹ بہت پیچیدہ تھی۔ منتظمین یہ جاننا چاہتے تھے کہ ندی کا کون سا حصہ محفوظ ہے، لیکن اتنی ساری کشتیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر الجھن ہو رہی تھی۔
نقشے کے بغیر یہ جاننا ناممکن تھا کہ محفوظ پانی کہاں ختم ہوتا ہے اور خطرناک لہریں کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ پہلے لوگوں نے پوری کشتیوں کی شکل دیکھ کر راستہ سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن دھند میں سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا اور ندی کا اصل راستہ چھپا ہی رہا۔
پھر انہوں نے ایک نیا اور حیرت انگیز طریقہ اپنایا۔ ہر کشتی میں ستائیس چھوٹے مستول تھے۔ انہوں نے پوری کشتی کو دیکھنے کے بجائے، ہر کشتی کے صرف ایک خاص مستول پر ایک چمکدار نیلی لالٹین لٹکا دی۔ اچانک ساری الجھن اندھیرے میں غائب ہو گئی اور صرف نیلی روشنیوں کی ایک سیدھی لکیر باقی رہ گئی۔
صرف ان نیلی روشنیوں کا پیچھا کرنے سے ندی کا بہاؤ اور کنارے بالکل واضح ہو گئے۔ منتظمین جانتے تھے کہ وہ خاص مستول کشتی کے باقی حصے سے کیسے جڑا ہے۔ اس لیے انہوں نے اس ایک روشنی کی مدد سے پوری کشتی کی حد اور ندی کے کناروں کا بالکل درست اندازہ لگا لیا۔
اس نئے نقشے نے ندی کی اصل حدوں کو بالکل کھول کر رکھ دیا۔ جب انہوں نے ایک بہت تنگ موڑ کو ناپا، تو ثابت ہو گیا کہ پرانا نقشہ بالکل غلط تھا۔ بات یہ ہے کہ صرف ایک روشن نقطے پر توجہ دینے سے وہ بہت بڑا اور پیچیدہ نظام سمجھ میں آ گیا جو پہلے نظروں سے اوجھل تھا۔