جسم کے اندر بکھرے ریوڑ کا سفر
شام کے وقت پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے ایک بڑے ریوڑ کا تصور کریں۔ مقصد یہ ہے کہ رات تک سارے جانور ایک محفوظ جگہ پر اکٹھے ہو جائیں۔ ہمارے جسم میں پروٹین بالکل اسی ریوڑ کی طرح ہیں۔ یہ مالیکیولز کی لمبی زنجیریں ہوتی ہیں، جنہیں کسی کے بتائے بغیر خود ہی ایک خاص اور درست شکل میں سمٹنا ہوتا ہے۔
ریوڑ کے کچھ جانور ٹھنڈی ہوا سے بچنے کے لیے بیچ میں گھسنا چاہتے ہیں، جبکہ باقی بکھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروٹین کے اندر بھی یہی جنگ چلتی ہے۔ زنجیر کے کچھ حصے پانی سے بچ کر اندر چھپنا چاہتے ہیں۔ جب پانی سے چھپنے کی یہ لگن بکھرنے کی عادت پر حاوی ہو جائے، تو پروٹین کامیابی سے اپنی صحیح شکل میں آ جاتا ہے۔
اگر ریوڑ کا ہر جانور رات گزارنے کی جگہ ڈھونڈنے نکلے تو صبح تک سب سردی سے اکڑ جائیں گے۔ لیکن وادی کی قدرتی ڈھلان انہیں خود بخود سب سے محفوظ جگہ تک لے جاتی ہے۔ پروٹین بھی ایسے ہی توانائی کے قدرتی بہاؤ کے ساتھ چلتے ہیں۔ وہ ہر ممکنہ شکل کو آزمانے کے بجائے پلک جھپکتے ہی اپنی آخری اور درست شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس قدرتی رہنمائی کے باوجود کچھ جانور راستہ بھٹک کر کسی کھائی میں پھنس سکتے ہیں۔ ایسے میں رکھوالے کتے انہیں واپس صحیح راستے پر لاتے ہیں۔ خلیوں کے اندر بھی کچھ خاص مددگار مالیکیولز بالکل ان کتوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ وہ غلط شکل میں الجھے ہوئے پروٹین کو بچاتے ہیں اور انہیں خطرناک حد تک آپس میں الجھنے سے روکتے ہیں۔
جب ریوڑ وادی میں سو جاتا ہے، تو وہ پتھر کی طرح جم نہیں جاتا۔ جانور ہلکی نیند سوتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوراً حرکت کر سکیں۔ ہم پہلے سوچتے تھے کہ پروٹین کی آخری شکل ایک سخت چیز ہوتی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ یہ اپنا کام کرنے کے لیے مضبوط بھی ہوتے ہیں اور اتنے لچکدار بھی کہ جسم کو ضرورت نہ رہنے پر آسانی سے بکھر سکیں۔