ریڈیو بوتھ میں عربی آواز کیوں ٹوٹ رہی تھی؟
چھوٹے سے کمیونٹی ریڈیو بوتھ میں سرخ آن ایئر لائٹ جل اٹھی۔ میزبان نے عربی اور انگریزی کالیں بدلیں، مگر عربی آواز کٹی کٹی آئی۔ مائیک ٹھیک تھا، مسئلہ ان کلپس کی الماری تھی جو نشر ہونے سے پہلے کاٹے اور صاف کیے جاتے تھے۔
منیجر نے آہ بھری، اچھے عربی کلپس کم تھے۔ صرف عربی چلتی تو وہی کمزور ریکارڈنگ بار بار آتی اور شو پھیکا لگتا۔ یہی حال اس نظام کا ہے جو عربی میں لکھنا سیکھے، اگر اسے بہت سا صاف عربی مواد نہ ملے تو وہ بھوکا رہ جاتا ہے۔
تو ٹیم نے شیڈول جان بوجھ کر دو زبانوں والا بنایا۔ انگریزی بھی، عربی بھی، اور کچھ وقت کمپیوٹر کوڈ جیسے چھوٹے اعلانوں کے لیے۔ عربی کو رات کے آخری حصے میں نہیں دھکیلا، اچھے عربی کلپس زیادہ چلائے، اور ترجمہ کر کے نئے عربی حصے جوڑے۔
پھر وہ کام آیا جو سننے والے کو فوراً محسوس ہوتا ہے۔ فالتو شور نکالا، بہت لمبی ریکارڈنگ کاٹی، ٹوٹی فائلیں پھینکیں، اور ایک ہی کلپ غلطی سے بار بار لگنے سے روکا۔ عربی میں ایک ہی لفظ کی مختلف لکھائی کو ایک جیسا رکھا، اور کٹائی کے اصول ایسے کیے کہ عربی ریزہ ریزہ نہ ہو۔
جب لائبریری ٹھیک ہو گئی تو میزبان کی کوچنگ شروع ہوئی۔ اسے بے شمار مشقی کالوں پر چلایا گیا، خاص طور پر جواب دینے کی پریکٹس کرائی گئی۔ لائیو شو کے لیے اصول بھی لگے، نقصان دہ بات پر صاف انکار، گالیوں کی چھانٹی، اور ایک الگ نگہبان جو نفرت والی بات روک دے۔
اگلی نشریات میں میزبان نے پھر عربی سے انگریزی اور واپس پلٹا۔ اس بار عربی حصہ سیدھا اور رواں رہا، اور انگریزی بھی کمزور نہ پڑی۔ بات کسی ایک چال کی نہیں تھی، عربی کو بڑا حصہ دینا، ترجمے اور بار بار چلانے سے اسے بڑھانا، پھر صاف کر کے دونوں زبانوں کو برابر ٹکڑوں میں کاٹنا، یہی فرق بنا۔