جب شو کی لائٹس بس آن آف رہ جائیں
چھوٹے سے تھیٹر میں ڈریس ریہرسل چل رہی تھی کہ لائٹنگ بورڈ اچانک ایمرجنسی موڈ میں چلا گیا۔ زیادہ تر لائٹس بس آن یا آف۔ چند ایک پر ہی ڈِمر گھومتا تھا۔ اسٹیج مینیجر نے کہا، غلط جگہ سادگی آئی تو لوگ سمجھیں گے ہی نہیں کون بول رہا ہے۔
پہلا خیال یہی آیا کہ سب لائٹس کو آن آف بنا دو۔ تاریں کم، جھنجھٹ کم۔ لیکن پھر تیز سین شروع ہوا تو چہرے بے رنگ، ہاتھوں کے اشارے گم، بات کا مطلب دھندلا۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کسی بڑے زبان والے سسٹم کے اندر کے سارے نازک نمبر بس ایک بٹن بنا دیے جائیں۔
حل یہ نکلا کہ ہر لائٹ کو برابر نہ بچاؤ۔ چند لائٹس ایسی چنو جن پر ڈِمر لازمی رہے، باقی آن آف۔ زبان والے سسٹم میں یہ وہ نمبر ہیں جو سب سے زیادہ اثر ڈالتے ہیں۔ انہیں چننے کے دو راستے تھے: سیدھا بڑے اثر والے رکھ لو، یا یہ دیکھ کر رکھو کہ کس کو چھیڑنے سے نظام فوراً بگڑتا ہے۔ سادہ بڑا والا انتخاب کافی نکلا۔
پھر ایک مشکل بات سامنے آئی۔ یہ خاص لائٹس ایک ساتھ کسی ایک بار میں نہیں تھیں، ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں، اس لیے ایک ایک کر کے نشان لگانا پڑا کہ کن پر ڈِمر رہے گا۔ عملہ لائٹس کو حصوں میں بدلتا گیا اور ہر قدم پر دیکھتا گیا کہ منظر اصل سے کتنا ہٹ رہا ہے۔ ہر آن آف لائٹ کے لیے یہ بھی طے ہوا کہ آن ہونے پر کتنی تیز دکھے گی۔
ریہرسل میں انہوں نے ڈِمر والی لائٹس کو لاک کر دیا کہ یہ اپنی جگہ قائم رہیں۔ پھر صرف آن آف والی لائٹس کو بار بار ٹھیک کیا۔ ایک صاف قاعدہ بھی بنا: جب لائٹ کو آن کہنا ہو تو اس کی مناسب تیزی وہ رکھو جو پہلے اس کے اوسط کے آس پاس تھی، تاکہ فرق کم رہے۔ اس طرح تھوڑے ہی چکر میں سین دوبارہ سمجھ آنے لگا۔
آخری رن میں کہانی پھر پکڑ میں آ گئی، حالانکہ زیادہ تر رِگ سادہ آن آف پر تھا۔ نئی بات یہ نہیں کہ ایک بٹن سب کچھ سنبھال لے گا، بات یہ ہے کہ چند درست چنے ہوئے ڈِمر پورے شو کا مطلب بچا لیتے ہیں۔ سیکھ یہ کہ ساری جگہ ایک جیسی بچت نہیں چلتی، کچھ جگہوں پر باریکی رکھنی پڑتی ہے۔