لائبریرین جو اکیلی نہیں رہی
ایک چھوٹے شہر کی لائبریری میں ایک لائبریرین بیٹھی ہے۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں، وہ فوراً جواب دیتی ہے۔ لیکن پھر کبھی پرانی کتاب کا حوالہ دے دیتی ہے، کبھی جرمانے کا حساب غلط لگاتی ہے، اور کبھی ایسے مصنف کا نام بتاتی ہے جو کبھی تھا ہی نہیں۔ یہ لائبریرین دراصل وہ ذہین چیٹ سسٹم ہے جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔
لائبریری بورڈ نے فیصلہ کیا کہ اسے نکالنا نہیں، مدد دینی ہے۔ اس کی میز پر ایک فون لگا دیا جو شہر کے دوسرے سرے پر تازہ ترین دستاویزات والے محفوظ خانے سے جڑا تھا۔ اب جب کوئی تازہ سوال آتا ہے، وہ پہلے فون کرتی ہے، تازہ معلومات لیتی ہے، پھر جواب دیتی ہے۔ اس سے اس کے پراعتماد مگر غلط جوابات بہت کم ہو گئے۔
لیکن حساب کتاب میں ابھی بھی گڑبڑ تھی۔ تو بورڈ نے اس کی میز پر ایک کیلکولیٹر رکھ دیا اور واضح اصول بنایا کہ جب بھی نمبروں کی بات ہو، پہلے قدم لکھو، کیلکولیٹر میں ڈالو، پھر جواب پڑھو۔ اب وہ ذہن میں اندازہ نہیں لگاتی، بلکہ حساب باہر کے آلے سے کرواتی ہے۔
ایک دن کسی نے پوچھا کہ فلاں مصنف نے پچھلے پانچ سالوں میں زیادہ کتابیں لکھیں یا فلاں نے۔ لائبریرین نے سوچا، پہلے فون کرتی ہوں تازہ فہرستیں لینے کے لیے۔ فہرستیں آئیں تو کیلکولیٹر سے گنتی کی، ایک کمی نظر آئی، دوبارہ فون کیا، پھر پورے اعتماد سے جواب دیا۔ یہ سوچو، عمل کرو، جانچو کا چکر ہے۔
فون، کیلکولیٹر، سوچ کا چکر، سب ایک ساتھ سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ تو بورڈ نے ایک منتظم رکھ لیا جس کے پاس ایک کلپ بورڈ تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ کس قسم کے سوال پر کون سا آلہ استعمال ہوگا، محفوظ خانے سے کیسے بات کرنی ہے، اور پچھلے آنے والوں کی باتیں کیسے یاد رکھنی ہیں۔
لیکن پھر بجٹ کا مسئلہ آیا۔ لائبریری کی الماریاں بھاری کتابوں سے بھری تھیں اور جگہ مہنگی پڑ رہی تھی۔ انجینیئرز نے دریافت کیا کہ ہر موٹی کتاب کو ایک پتلے پرچے میں سمیٹا جا سکتا ہے جس میں صرف تین نشانیاں ہوں: ہاں، نہیں، یا چھوڑو۔ جگہ بہت کم لگی، رفتار بڑھی، اور جوابات کا معیار تقریباً وہی رہا۔
لائبریرین کو مقامی تاریخ میں ماہر بنانا تھا لیکن باقی علم بھی بچانا تھا۔ تو عملے نے اس کی ہر نوٹ بک میں ایک پتلا کارڈ ڈال دیا جس پر صرف مقامی تاریخ کی تبدیلیاں لکھی تھیں۔ اصل نوٹس جوں کے توں رہے۔ کسی اور موضوع کے لیے نئے کارڈ ڈالو، پرانے نکالو۔ سیکنڈوں کا کام۔
آخری بہتری سب سے نازک تھی۔ لوگوں نے جوابات کی درجہ بندی شروع کی۔ ایک نگران نے ان درجہ بندیوں سے رہنما بنایا۔ لائبریرین اب کئی مسودے بناتی، بہترین چنتی، اور انہی سے سیکھتی۔ بات یہ ہے کہ لائبریرین کو کبھی بدلا نہیں گیا۔ اسے فون ملا، کیلکولیٹر ملا، منتظم ملا، ہلکی الماریاں ملیں، کارڈ ملے، اور رائے کا نظام ملا۔ ہر اضافے نے ایک مخصوص کمزوری دور کی۔