ایک جیسا فرش یا ایک جیسی منزل؟
ایک ماہر تعمیرات اپنے نئے بنائے ہوئے پارک کے دروازے پر کھڑا تھا۔ اوپر بورڈ لگا تھا "سب کے لیے"، اور زمین پر ہر طرف ایک جیسا خوبصورت اور چکنا فرش بچھا تھا۔ لیکن غور کرنے پر اسے ایک عجیب بات نظر آئی: صرف جوگرز پہنے نوجوان ہی تیزی سے گزر رہے تھے، جبکہ بزرگ یا عام جوتوں والے لوگ پھسلن کے ڈر سے وہیں رک جاتے۔ ڈیزائن بظاہر غیر جانبدار تھا، مگر سب کے لیے قابلِ استعمال نہیں تھا۔
یہ صورتحال دو اصولوں کا ٹکراؤ تھی۔ ایک اصول کہتا تھا کہ "برتاؤ سب کے ساتھ ایک جیسا ہو"، یعنی ہر انچ پر ایک ہی میٹریل استعمال کیا جائے تاکہ کوئی خاص نہ لگے۔ دوسرا اصول تھا کہ "نتیجہ سب کے لیے ایک جیسا ہو"، یعنی ہر طرح کے لوگ یہاں آ سکیں۔ معمار کو سمجھ آ گئی کہ اگر ہم ضد کریں کہ ہر جگہ ایک ہی ٹائل لگے گی، تو یہ انصاف نہیں بلکہ ان لوگوں کو روکنا ہے جنہیں چلنے کے لیے سہارے یا گرفت کی ضرورت ہے۔
ٹیم نے سوچا کہ شاید اگر ہم یہ نہ دیکھیں کہ کون آ رہا ہے اور کون نہیں، تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے بزرگوں یا معذوروں کے لیے کوئی الگ نشان نہیں لگایا، یہ سوچ کر کہ "فرق نہ کرنا" ہی انصاف ہے۔ مگر پھسلواں فرش خود بخود ایک رکاوٹ بن گیا۔ بھلے ہی وہاں "بزرگ منع ہیں" کا بورڈ نہیں تھا، لیکن فرش کی بناوٹ نے خاموشی سے یہی پیغام دیا اور انہیں باہر ہی روک دیا۔
مسئلہ تب اور بگڑ گیا جب کامیابی ناپنے کا وقت آیا۔ گیٹ پر لگے سینسر نے دکھایا کہ آنے والوں کی بڑی تعداد نوجوان کھلاڑیوں کی ہے۔ چونکہ پھسلن کی وجہ سے صرف وہی اندر آ سکے تھے، ڈیٹا نے یہ غلط فہمی پیدا کر دی کہ یہاں کے لوگوں کو صرف "جم" یا کھیل کود کی جگہ چاہیے۔ اگر اس ڈیٹا پر بھروسہ کر کے اگلا بجٹ بنایا جاتا، تو یہ جگہ ہمیشہ کے لیے صرف ایک خاص طبقے تک محدود ہو کر رہ جاتی۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے معمار نے نیا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے ایک ہی لکیر پیٹنے کے بجائے یہ دیکھا کہ کس چیز میں برابری چاہیے اور کس میں مدد۔ طے یہ ہوا کہ سیکیورٹی چیکنگ سب کی ایک جیسی ہوگی (برابر برتاؤ)، لیکن چلنے کے راستوں میں خودکار دروازے اور کھردری ٹائلز لگیں گی (برابر نتیجہ)۔ انہوں نے مان لیا کہ انصاف کا مطلب سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا نہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق سہولت دینا ہے۔
جب پارک دوبارہ کھلا تو وہاں ہموار ٹائلز کے ساتھ ساتھ ریمپ اور کھردری پگڈنڈیاں بھی تھیں۔ اب وہاں ہر عمر اور ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ اس تجربے نے ثابت کر دیا کہ حقیقی انصاف یہ نہیں کہ سب کے لیے راستہ ہو بہ ہو ایک جیسا ہو، بلکہ یہ ہے کہ سسٹم کو ایسے ڈیزائن کیا جائے کہ لوگوں کی ضروریات الگ ہونے کے باوجود سب ایک ہی منزل پر پہنچ سکیں۔