گیلے قدموں کے نشان اور گھر کے چھوٹے راز
بارش ابھی رکی تھی۔ صحن کی کالی اینٹوں پر ایک جوڑی گیلے جوتوں کے نشان کچرے والے کمرے تک گئے اور لوٹ آئے، ایک اور نشان ایک دروازے پر ٹھہر گیا۔ اتنا دیکھ کر بھی پڑوسی اندازہ باندھنے لگتا ہے کہ فجر سے پہلے کون جاگ رہا تھا۔
گھر کے کچھ ہوشیار آلات بھی ایسے ہی نشان چھوڑتے ہیں۔ کمرہ گرم ہوا، بتی جلی، دروازہ کھلا پھر بند ہوا۔ یہ آواز یا تصویر نہیں ہوتے، بس وقت کے ساتھ بنی سادہ لکیریں ہوتی ہیں، لیکن انہی سے کوئی سونے، باہر جانے، واپس آنے یا رات بھر کروٹیں بدلنے کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
خطرہ کسی دور بیٹھے بڑے نظام سے شروع نہیں ہوتا۔ صحن میں تو عام آدمی بھی نشان پڑھ لیتا ہے، اور جسے جوتے کی ایڑی پہچان ہو وہ اور آگے چلا جاتا ہے۔ گھر کے اندر یہی کام گھر والے، ساتھ رہنے والے، دیکھ بھال کرنے والے، یا کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جسے ایک چھوٹی سی اضافی بات معلوم ہو۔
لیکن نشان ہمیشہ پوری کہانی نہیں بتاتے۔ وہی گیلا راستہ بے چینی کی رات بھی ہو سکتا ہے، بیمار بچے کے پاس اٹھنا بھی، یا بس تھوڑی ہوا لینے باہر جانا بھی۔ گھر کے یہ اشارے بھی ایسے ہی ہیں۔ ایک ہی لکیر پر کئی کہانیاں چڑھ سکتی ہیں، مگر لوگ ایک بات دہرانا شروع کریں تو اندازہ بھی ثبوت جیسا لگنے لگتا ہے۔
اگر یہ سب گھر کے اندر ہی رہے تب بھی مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ جب کوئی ان اشاروں کو بار بار دیکھ سکے، سنبھال کر رکھ سکے، یا دوسروں کو دکھا سکے، تو نقصان وہیں سے شروع ہو سکتا ہے، چاہے نیت بری نہ ہو۔ ایک شخص نشان پڑھے، دوسرا ان کے فیصلوں کے ساتھ جئے، بات یہیں بھاری ہو جاتی ہے۔
دوپہر تک صحن سوکھ جاتا ہے، مگر قدموں کے نشانوں سے بنی بات دیر تک رہتی ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ گھر کے بہت سادہ اشارے بھی بھروسا بدل سکتے ہیں، کیونکہ انہیں عام لوگ پڑھتے ہیں، ان پر بحث کرتے ہیں، پھر اسی حساب سے برتاؤ کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے نظام بناتے وقت جمع کرنا، رکھنا، دکھانا اور کس کو دیکھنے دینا ہے، سب سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے۔