ترجمہ کرتے ہوئے انگلی کا اشارہ کیوں بچا لیتا ہے
محلے کی بیٹھک میں میں درمیان میں بیٹھی تھی۔ ایک پڑوسی لمبی بات سناتا گیا اور دوسرا بس گھورتا رہا۔ میں نے کاغذ پر لکھی باتوں پر انگلی رکھ لی، اور جو جملہ بولا جاتا، اسی لائن پر فوراً واپس دیکھ لیتی۔
پہلے والا طریقہ ایسا تھا جیسے کاغذ بند کر کے صرف یاد سے ترجمہ کیا جائے۔ چھوٹی بات تو نکل آتی ہے، لیکن لمبی بات میں نام گڈمڈ ہوتے ہیں، کون کس سے ملا تھا یہ الٹ پلٹ ہو جاتا ہے، اور آدھی بات گر جاتی ہے۔
نیا خیال یہ نکلا کہ پوری بات کو ایک ہی گٹھڑی نہ بنایا جائے۔ اصل جملے کے ہر لفظ کے پاس چھوٹا سا مطلب والا نوٹ رہنے دیا جائے، پھر ترجمہ کے ہر نئے لفظ پر تازہ سا خلاصہ بنایا جائے۔ جیسے میرے سامنے کاغذ کھلا رہے۔
جب اگلا لفظ چننا ہو تو نظر ایک جگہ نہیں جمتی۔ ہر لائن کو تھوڑا تھوڑا حصہ ملتا ہے، پھر ان حصوں کو ملا کر اسی لمحے کی سمجھ بنتی ہے۔ میری انگلی بھی کبھی ایک لائن پر ٹکتی ہے، کبھی دو لائنوں کے بیچ ہلکی سی رہتی ہے۔ یہی بات کام کرتی ہے۔
یہ حصہ بانٹنا اندھا دھند نہیں ہوتا۔ جو لفظ ابھی ابھی میں نے کہا ہوتا اور جو کاغذ پر دکھ رہا ہوتا، دونوں مل کر بتاتے کہ اب انگلی کہاں جائے۔ ایک بات الگ ہے، کاغذ کے نوٹ میں آگے پیچھے کی جھلک بھی رہتی، جیسے کنارے پر چھوٹی سی یاددہانی۔
لمبے جملوں میں فرق صاف دکھا۔ کاغذ بند والی عادت میں بات دھندلا جاتی، جیسے لمبی کہانی کے بیچ دھاگا ٹوٹ جائے۔ انگلی والی عادت میں دھاگا جڑا رہا، اور انگلی اکثر سیدھی سمجھ والی راہ پر چلتی، چاہے لفظوں کی ترتیب کبھی بدلنی پڑے۔
آخر میں میرے لیے بات اتنی تھی کہ ایک طریقہ نوٹ بند کر کے چلاتا ہے، دوسرا نوٹ کھلا رکھ کر ہر لفظ پر انگلی سے صحیح جگہ ڈھونڈتا ہے۔ فرق صرف یادداشت کا نہیں، قدم قدم پر سیکھا ہوا دھیان ہے۔ اور انگلی کی حرکت دیکھ کر پتا بھی چلتا ہے کہ سہارا کہاں لیا گیا۔