ایک پرانی سائیکل نے سائنس کا راز کھول دیا
محلے کی ورکشاپ میں ایک مکینک پرانی سائیکل ٹھیک کر رہی تھی۔ سیدھی سڑک پر سب ٹھیک، لیکن ذرا سا گڑھا آئے تو پوری سائیکل ہلنے لگتی۔ اگلا پہیہ سیدھا، پچھلا بھی سیدھا، پھر بھی جھٹکے۔ وجہ؟ دونوں پہیے الگ الگ ٹھیک کیے گئے تھے، بغیر سوچے کہ سوار کا وزن آگے پیچھے بدلتا رہتا ہے۔ بالکل یہی مسئلہ ہے پروٹین کی پیشگوئی میں۔
ہمارے جسم کی ہر کوشش پروٹین سے چلتی ہے۔ جب سائنسدان کسی پروٹین میں ایک ٹکڑا بدلتے ہیں، مثلاً دوا کو زیادہ پائیدار بنانے کے لیے، تو انہیں اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی پروٹین کو مضبوط کرے گی یا کمزور۔ موجودہ طریقے صرف پروٹین کی بندھی ہوئی شکل دیکھتے ہیں، جیسے صرف اگلا پہیہ ٹھیک کرنا۔ لیکن پروٹین کی ایک ڈھیلی، کھلی حالت بھی ہوتی ہے، وہ پچھلا پہیہ جسے کوئی نہیں دیکھتا۔
ورکشاپ میں مکینک نے پچھلا پہیہ دوبارہ نہیں بنایا۔ بس فریم پر ایک چھوٹا وزن لگایا جو آگے پیچھے کے فرق کو برابر کر دے۔ ٹھیک اسی طرح ایک ٹیم نے پروٹین کے پرانے طریقوں کو بدلنے کی بجائے ان پر ایک چھوٹا سا فارمولا چڑھا دیا۔ یہ فارمولا دیکھتا ہے کہ بدلے جانے والے ٹکڑے پانی سے کتنا دوستی رکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر ڈھیلی حالت کا حساب لگاتا ہے۔ نیا نظام نہیں، بس ایک اضافی وزن۔
اس وزن کی دو شکلیں ہیں۔ ایک میں بیس الگ الگ قدریں ہیں، ہر ٹکڑے کی قسم کے لیے ایک۔ دوسری میں صرف دو عدد ہیں جو پانی سے دوستی کے ایک مشہور پیمانے پر مبنی ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ دو عدد والا طریقہ بیس والے کے تقریباً برابر کام کرتا ہے۔ جیسے مکینک کا اندازے سے وزن رکھنا بھی ہر تار کی باریک پیمائش جتنا کارآمد نکلے۔
جب یہ اضافی وزن کئی مختلف پیشگوئی کے طریقوں پر آزمایا گیا، جو پروٹین کی ڈھیلی حالت نظرانداز کرتے تھے، ان سب کی درستگی نمایاں بہتر ہوئی۔ لیکن جو طریقے پہلے سے ڈھیلی حالت کا حساب رکھتے تھے، انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ہلکا سا نقصان ہوا۔ بالکل ویسے جیسے پہلے سے بیلنس پہیے پر اضافی وزن رکھنا بے کار ہو۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ فارمولا واقعی ایک مخصوص کمی پوری کر رہا ہے۔
اس فارمولے کی بنیاد کوئی اعدادی چال نہیں۔ ہر ٹکڑے کے لیے نکلنے والی قدریں پانی سے دوستی کی پرانی، آزمائی ہوئی پیمائشوں سے میل کھاتی ہیں۔ اصل قوت یہ ہے کہ جب کوئی ٹکڑا پانی سے نکل کر پروٹین کے اندر دبتا ہے، یا باہر آتا ہے، تو توانائی بدلتی ہے۔ سائیکل کا وزن بھی دکھاوے کا نہیں، وہ ایک حقیقی عدم توازن درست کر رہا ہے۔
اس چھوٹے سے اضافے کے بعد کچھ سادہ اور تیز طریقے اتنے درست ہو گئے جتنے بڑے، مہنگے اور پیچیدہ نظام ہوتے تھے۔ جیسے ایک پرانی سائیکل پر ایک وزن لگا کر وہ نئی سائیکل جتنی ہموار چلنے لگی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ یہ فارمولا پہلے سے موجود درجنوں طریقوں پر فوراً لگایا جا سکتا ہے، کچھ نیا بنانے کی ضرورت نہیں۔ ایک نظرانداز اصول کو بحال کرنا کبھی کبھی سب سے بھاری مشینری سے زیادہ کام کا ہوتا ہے۔