تالے کے اندر چھپی لہریں، اور ایک آگ کا گولا جو نظر نہیں آتا
سورج نکلنے سے پہلے میں نہر کے تالے کے کنارے کھڑا تھا۔ پانی بھرتے ہی کشتیاں عجیب زاویوں سے اندر آئیں، کوئی آہستہ گھومی، کوئی ایک دم سائیڈ میں سرکی۔ نیچے کی دھار نظر نہیں آتی تھی، بس کشتیوں کی حرکت بتا رہی تھی۔
لوگ جب بہت تیز ٹکراؤ دیکھتے ہیں تو مسئلہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اصل دھکا اور شکل اندر بنتی ہے، مگر آنکھ سے نہیں دکھتی۔ پہلے خیال تھا کہ شروع سے سب کچھ پرسکون پانی کی طرح چلے گا، لیکن پہلی گھڑی میں سب کچھ چھپاکے اور ٹکراؤ جیسا ہوتا ہے۔
پھر سمجھ آئی کہ تالے کا سفر حصوں میں ہوتا ہے۔ پہلے زور دار داخلہ، پھر پانی آہستہ آہستہ ایک جیسے اصولوں پر چلتا ہے، جیسے گاڑھا پانی جھٹکے کو روکے۔ آخر میں گیٹ کھلتا ہے اور کشتیاں باہر جا کر چھوٹی لہریں چھوڑتی ہیں۔ مطلب، ایک ہی قاعدہ ہر لمحے پر نہیں لگتا۔
ایک بات پر بھروسا تب بنتا ہے جب وجہ اور اثر سیدھے رہیں۔ اگر میں والو ایسے کھینچوں جیسے پانی ہر جگہ فوراً مان جائے، تو تالہ جھٹکا کھا سکتا ہے۔ اسی طرح اندر کے دھکے کو فوری مان لینے والی سادہ باتیں ٹوٹ جاتی ہیں، تو نئے حساب میں تھوڑی سی دیر شامل کی جاتی ہے۔
میں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک جیسی کشتیاں بھی ہر بار ایک جیسی نہیں آتیں۔ کوئی ذرا بائیں سے، کوئی دیر سے، دیوار سے ٹکرائی لہر سب کو ہلکا سا دھکیل دیتی ہے۔ ایسے چھوٹے فرق باہر نکلتے وقت عجیب نقش بناتے ہیں، صرف سیدھا دائیں بائیں دباؤ نہیں۔
چھوٹے تالے میں کبھی پانی پوری طرح پرسکون نہیں لگتا، پھر بھی باہر نکلنے کا انداز جلد سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ویسا ہی اندر کے اس آگ جیسے گولے میں ہو سکتا ہے، وہ جلد ہی بہتے پانی جیسے اصول پکڑ لیتا ہے، چاہے اندر کا دھکا ابھی ناہموار ہو۔ شرط یہ ہے کہ شروع کی افراتفری اور وہ چھوٹی سی دیر ایمانداری سے رکھی جائے۔
جب میں ایک ساتھ کئی اشارے دیکھتا ہوں، کون سی کشتی تیز نکلی، کس طرف زیادہ بہکی، کون سی بار بار ٹکرائی، تو تالے کی چھپی عادتیں سمجھ آتی ہیں، دیواریں پانی کو کتنا روکتی ہیں، شکل ذرا ٹیڑھی تو نہیں۔ اسی طرح آخر میں نظر آنے والی چیزوں سے اندر کی رگڑ اور شروع کی شکل کا اندازہ لگتا ہے، اور حیرت یہ کہ اتنا چھوٹا گولا بھی بہت ہموار بہاؤ جیسا برتاؤ کر سکتا ہے۔