دھند میں جھنٹیوں والا میلہ اور دور سے بنتی ہوئی سمجھ
دھند چھوٹے جزیروں پر بیٹھی ہے اور لالٹینوں کا میلہ شروع ہونے والا ہے۔ ہر جزیرے پر ایک رضاکار ہے، جھنٹی ہے، اور رنگین جھنڈوں کا صندوق۔ قاعدہ یہ کہ جھنٹی بس پڑوسی تک جائے، اور ساتھ والے جزیروں کے جھنڈے ایک جیسے نہ ہوں۔
لوگ کہتے ہیں، اگر کوئی بہت خاص چال ہو تو کم جھنٹیوں میں بھی سب کا رنگ ٹھیک بیٹھ جائے گا، جیسے دور کے جزیرے بھی ایک ساتھ سمجھ جائیں۔ لیکن رکاوٹ ہوشیاری نہیں، فاصلے کی ہے۔ جھنٹی جتنے چکر میں جتنی دور پہنچے، خبر بھی اتنی ہی دور جا سکتی ہے۔
تو منتظم ایک عجیب اجازت سوچتے ہیں۔ رضاکاروں کے پاس شروع میں مشترک کِٹ ہو، جتنا چاہیں طاقتور، بس اس سے دور تک پیغام تیز نہ جا سکے۔ پھر بھی اصول یہی رہتا ہے کہ ہر جزیرے کا فیصلہ اتنی ہی دور کے منظر پر ٹکے جتنی دور تک جھنٹی وقت پر خبر پہنچا سکتی ہے۔
اس سخت اصول کے بعد بھی کچھ کام سست رہتے ہیں۔ بعض نقشوں میں صحیح رنگ تبھی بنتے ہیں جب دور دور کی شکل کا پتا چلے۔ اگر ایک جزیرہ بس پاس والوں کو سنے تو اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ لمبی تنگ قطار میں پھنسا ہے، اور کہیں نہ کہیں رنگ ٹکرا جاتے ہیں۔
لیکن پھر ایک پھسلن نکلتی ہے۔ وہ مشترک کِٹ چپکے سے سب کو ایک ہی بڑی تھیلی سے جوڑ بھی سکتا ہے۔ اس لیے شرط لگتی ہے کہ جو ٹولیاں کافی دور ہوں، ان کے نتیجے واقعی الگ رہیں۔ پھر بھی لمبی قطار والے جزیروں میں تین رنگوں کا ایک درست سا نقشہ جلد بن جاتا ہے، جو عام جھنٹیوں سے اتنی جلدی نہیں بنتا۔
اس کو زمین پر لانے کے لیے منتظم ایک نگران کا کھیل بناتے ہیں۔ نگران ایک ایک جزیرے پر جاتا ہے، بس اتنی ہی دور تک دیکھتا ہے جتنی جھنٹی کی پہنچ ہے، اور نوٹ بک میں لکھ کر اسی وقت رنگ طے کرتا ہے۔ جو بھی طریقہ فاصلے کی حد مانے، نگران اس کی نقل اتار لیتا ہے۔
پھر ایک جگہ واقعی فرق جھلکتا ہے۔ کچھ مرکز جزیروں کے پاس بہت زیادہ پڑوسی ہوتے ہیں، اور قاعدہ چھوٹے چھوٹے جوڑوں کی جانچ جیسا ہوتا ہے جو پاس والے فوراً دیکھ لیں۔ اگر مرکز نے پہلے سے جڑے ہوئے کِٹ بانٹ رکھے ہوں تو ایک ہی جھنٹی کے بعد پڑوسیوں کے جھنڈے کئی جانچوں میں ساتھ ساتھ ٹھیک بیٹھ جاتے ہیں، لیکن عام طریقے میں وقت کھنچتا ہے۔