پُل پر صبح کی پہلی گنتی
سورج نکلنے سے پہلے پُل پر میں تختی اور کاغذ سنبھالے کھڑا تھا۔ چھوٹے جزیرے اپنی کشتیوں میں ڈبے چڑھا رہے تھے۔ ہر جزیرے کو کچھ ڈبے باہر بھیجنے ہوتے ہیں، اور کچھ واپس بھی چاہییں، ورنہ کل کشتی نہیں چلے گی۔ یہ تختی بتاتی ہے کس جزیرے کو کس چیز کے کتنے ڈبے درکار ہیں۔
میں کاغذ پر پہلے دن کی لوڈنگ کے کئی نقشے بنا سکتا تھا۔ ایک نقشہ عجیب سا بہتر نکلا: ڈبے ایسے حصوں میں بانٹ دو کہ جو جزیرہ سب سے آہستہ چلتا ہے، وہ بھی جتنا ہو سکے اتنا ہی تیز چل پڑے۔ کسی اور بانٹ میں شروع کے دن ٹھیک لگتے ہیں، پھر ایک دن کسی جزیرے کے کھاتے میں کسی ڈبے کی گنتی صفر سے نیچے چلی جاتی ہے۔
بات یہ ہے کہ جزیرے پر لوگ رہتے ہیں، کچھ ڈبے وہیں کھپ جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے۔ پرانے حساب میں کبھی کبھی ایسا حکم نکلتا تھا کہ بھیجو، حالانکہ ڈبے ہیں ہی نہیں۔ پھر ایک سادہ قاعدہ رکھا: ہر جزیرہ تختی کے کہنے کے مطابق صرف کچھ حصہ بھیجے، باقی اپنے پاس رکھ لے۔ رفتار بدل گئی، لیکن لمبے وقت میں ڈبوں کی نسبتیں وہی رہیں۔
پھر بھی تختی والا حساب نازک تھا، دور کے دنوں میں اچانک بکواس بن جاتا تھا۔ میں نے اسی بات کو ایک نئے کاغذ میں لکھا، جیسے راستوں کا نقشہ ہو: جزیرہ الف سے نکل کر اگلا قدم کس جزیرے پر پڑنے کے کتنے حصے ہیں۔ یعنی ڈبوں کی روانی کو سفر کے امکانات میں بدل دیا۔ حیرت یہ تھی کہ جس دن، جس جگہ کھاتا پہلی بار منفی ہونا تھا، وہ اشارہ یہاں بھی وہی رہا، بس حساب زیادہ ہموار ہو گیا۔
اب میں نے ایک اور سوال پوچھا: اگر کوئی مسافر انہی امکانات کے ساتھ روز جزیرے بدلتا رہے، تو وہ زیادہ وقت کہاں رکے گا؟ اس سے ہر جزیرے کا وزن سا بن گیا۔ پھر میں نے دونوں طرف دیکھا: جزیرہ دوسروں پر کتنا ٹکتا ہے، اور دوسرے اس پر کتنا ٹکتے ہیں۔ یوں کمزور جزیرے الگ نظر آنے لگے اور ستون جیسے جزیرے بھی۔
پھر شہر کے بڑے صاحب کا پیغام آیا: آخر میں ڈبوں کی نئی نسبتیں چاہییں، مگر نظام کا اندرونی مزاج نہ بدلے۔ میں نے ڈبوں کی تختی میں تبدیلی کی، مگر وہ امکانات والا نقشہ ویسا ہی رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسبتیں بھی ہدف کے مطابق ہو گئیں، اور پھر بھی میں پہلے جیسا اندازہ لگا سکتا تھا کہ ٹوٹ پھوٹ سب سے پہلے کہاں شروع ہوگی۔
پُل پر شور کم نہیں ہوا، بس میرے ہاتھ میں کاغذ بدل گیا تھا۔ پہلے میں نازک کھاتے پر بھروسا کرتا تھا، اب میں اسی حقیقت کو امکانات کے نقشے میں دیکھتا تھا، جہاں خطرے کا اشارہ بھی بچا رہتا ہے اور گنتی بھی قابو میں رہتی ہے۔ کبھی کبھی پیچیدہ لین دین کو سمجھنے کے لیے دنیا نہیں بدلتی، حساب کی زبان بدلنی پڑتی ہے۔