کورس نے نیا گانا ایسے سیکھا جیسے بس دو چھوٹی درستگیاں کافی ہوں
محلے کے کورس والے کمرے میں لائٹ جلی تو کسی نے تازہ شیٹس پیانو پر رکھ دیں۔ مہمان آنے میں تھوڑا وقت تھا۔ ڈائریکٹر نے پورا گانا رٹوانے کے بجائے ایک چھوٹا وارم اپ چن لیا، پھر دو فوری درستگیاں کر کے سب کو لائن پر لے آیا۔
اکثر گروپ ایک ہی گانا اتنا گھساتے ہیں کہ چمک جائے، یا پھر اتنی بھاری ٹریننگ لے آتے ہیں جو بس ایک ہی انداز پر چلتی ہے۔ نیا گانا آئے تو یا لمبی ریہرسل لگتی ہے، یا وہ ٹریننگ بیٹھتی ہی نہیں۔
ڈائریکٹر کا نیا طریقہ عجیب سا تھا۔ وہ وارم اپ کو اکیلا نہیں پرکھتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ پہلی ایک دو درستگیوں کے بعد آواز کیسی بنتی ہے۔ راتوں رات وہ مختلف گانوں پر چھوٹے وارم اپ آزماتا، پھر سنتا کہ اگلی لائنیں کتنی صاف نکلتی ہیں۔
ایک بار پہلی درستگی سے فائدہ ہوا، مگر دوسری درستگی میں آواز ذرا آگے نکل گئی۔ ڈائریکٹر نے نوٹ کیا کہ پہلی درستگی خود دوسری کو بدل دیتی ہے۔ کبھی وہ یہ باریک حساب رکھتا، کبھی چھوڑ دیتا، اور پھر بھی کام کافی حد تک ٹھیک ہو جاتا کیونکہ وقت بچ جاتا تھا۔
پھر اس نے بالکل الگ گانے رکھے۔ ایک سادہ دھن جس میں چند سروں سے بات بن جاتی تھی، اور ایک تیز ٹکڑا جس میں چھوٹی چھوٹی آوازیں ٹھیک پہچاننی پڑتی تھیں۔ وارم اپ وہی رہا، کیونکہ کورس کا طریقہ ایک ہی تھا: سنو، چھوٹی تبدیلی کرو، پھر دوبارہ آزما لو۔
سب سے مشکل دن وہ تھا جب نئے ہال میں گانا تھا اور گونج عجیب تھی، یا مہمان ڈائریکٹر نے رفتار بدل دی۔ یہاں کوئی پکا جواب کام نہیں آتا تھا۔ انہیں گانا پڑتا، سننا پڑتا، پھر اپنی اگلی کوشش بدلنی پڑتی، کیونکہ فیڈ بیک اسی پر ٹکا تھا جو ابھی کیا تھا۔
سیزن کے آخر میں وہ نئے گانے ویسے ہی سیکھتے رہے، بس شروع کا قدم بدل گیا تھا۔ اب وہ شروع ہی ایسے ہوتے کہ دو تین چھوٹی درستگیاں انہیں کافی دور لے جاتیں۔ فرق یہ تھا کہ ہر گانے کے لیے الگ کوچنگ نہیں، ایک ایسا وارم اپ بنایا گیا تھا جو تھوڑی سی نئی بات ملتے ہی جلدی سنبھل جائے۔