ایک ہی واقعہ رپورٹ، دو گھڑیاں، تین ناممکن باتیں
مدھم کنٹرول روم میں ڈائریکٹر نے دو چھوٹے جہازوں کو تیزی سے پاس سے گزرتے دیکھا۔ چار لوگ بس ہاں یا نہیں کے پیغامات بھیج رہے تھے۔ ڈائریکٹر نے ایک ہی واقعہ رپورٹ بنانی چاہی، لیکن دونوں جہازوں کی گھڑیاں رات کو الگ الگ ٹکڑوں میں کاٹ رہی تھیں۔
ڈائریکٹر نے خود سے کہا، چاروں نے جو دیکھا وہ تو سیدھی بات ہے۔ چار جواب ملیں تو ایک ہی صاف فہرست بننی چاہیے، جیسے رپورٹ میں چار خانے بھر جائیں۔ یہ خیال تھا کہ جو واقعہ ہو گیا، وہ سب کے لیے ایک ہی ہوگا، گھڑی کوئی بھی ہو۔
پھر دوسرا اصرار آیا۔ اصول ایک ہی رہیں، چاہے دیکھنے والا بھی اسی کہانی کا حصہ ہو۔ جیسے کمپیوٹر میں کام کا ریکارڈ ایسا ہو کہ چاہیں تو واپس پلٹ جائے، کچھ مٹے نہیں۔ اور چونکہ کوئی جہاز خاص نہیں، ڈائریکٹر چاہتا تھا کہ ہاں یا نہیں کے امکان کا حساب ہر گھڑی پر ایک سا چلے۔
اندر دو نازک، جڑے ہوئے آلات تھے جن کے جواب آپس میں بندھے ہوئے تھے۔ چارلی اور ڈینیئلا نے پہلے ہلکی سی جانچ کی اور جواب میموری میں کاپی کیا، ایسے کہ پکا نشان نہ پڑے۔ بعد میں ایلس اور باب نے پورے سیٹ اپ کی جانچ کی، پہلے وہ کاپی واپس ہٹائی، پھر اسی چیز سے ایک اور ہاں یا نہیں پوچھ لیا۔
ایک جہاز کی گھڑی سے ڈائریکٹر نے لکھا، چارلی اور ڈینیئلا دونوں کا جواب ایک ساتھ وہ خاص والا نہیں ہو سکتا۔ دوسری گھڑی سے نکلا، ایلس کا منفی جواب ڈینیئلا کے صفر کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔ تیسری گھڑی سے نکلا، باب کا منفی جواب چارلی کے صفر کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔
ڈائریکٹر نے سوچا، اگر ایک ہی رپورٹ سچی ہے تو پھر ایلس اور باب دونوں منفی کبھی نہیں آ سکتے۔ پھر اس نے ایک اور جائز گھڑی چنی جہاں ایلس اور باب کی جانچ ایک ہی وقت میں لگتی تھی۔ اسی پلٹ سکنے والے اصول کے ساتھ حساب کہتا تھا کہ دونوں منفی کبھی کبھی آ ہی جاتے ہیں۔
ڈائریکٹر نے قلم روک لیا۔ یا تو دنیا کے واقعات ایک ہی مشترک فہرست میں سب کے لیے بند نہیں ہوتے، یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ہر جانچ کو ہر حال میں پوری طرح پلٹ سکنے والا سمجھنا کہیں نہ کہیں ٹوٹتا ہے۔ ایک ہی رپورٹ، اور گھڑی بدلتے ہی سچ کے خانے ہل گئے۔