رات کی بس میں ہیڈفون نے مجھے دو وقت دکھا دیے
میں رات کی لمبی بس میں بیٹھا، ہیڈفون لگا لیے۔ انجن کی بھنبھناہٹ چل رہی تھی، پھر سڑک کا ایک جھٹکا آیا۔ ہیڈفون نے عجیب کام کیا: باہر کی آواز سن کر ذرا سی دیر بعد الٹی سی آواز چلا دی، اور شور دب گیا۔
مجھے لگا یہ بس والا کھیل ایک چھوٹی چیز کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کوئی ننھی سی چیز اکیلی نہیں رہتی۔ اردگرد کی دنیا اسے ہلکا سا دھکا دیتی رہتی ہے، کچھ بات چھین لیتی ہے، کبھی بعد میں واپس بھی دے دیتی ہے۔ وقت کی ترتیب بدل جائے تو نتیجہ بھی بدل جاتا ہے۔
ان نوٹس کا نیا خیال یہ تھا کہ سیدھا اسی “پہلے سے بعد” والے اصول سے آغاز کرو، پھر اردگرد کو دو پٹریوں میں لکھو: ایک آگے جانے والی، ایک پیچھے پلٹنے والی۔ جیسے ہیڈفون میں باہر کی آواز اور اس کے جواب کی آواز۔ یہاں وزن عام گنتی نہیں، آواز کی لہروں کی طرح جڑ بھی سکتے ہیں اور کٹ بھی سکتے ہیں۔
پھر وہ ہر چھوٹی لہر گننے کے بجائے چند اہم پیٹرن نکالتے ہیں، جیسے کوئی ساؤنڈ والا بندہ صرف کام کی آوازیں الگ کر لے۔ وہ ایسے “گٹھے” بناتے ہیں جو ٹوٹ کر الگ الگ حصے نہیں بنتے۔ اس طرح تہہ بہ تہہ جوڑ کر جہاں چاہو وہاں رک سکتے ہو، اور اندازہ کام کا رہتا ہے۔
ایک مشکل یہ نکلی کہ اگر آخر میں بیٹھ کر سب کچھ اکٹھا اوسط نکالو تو حساب الجھتا جاتا ہے۔ ان نوٹس میں ایک پھیلاؤ ہے جو چھوٹی چھوٹی وقت کی کھڑکیوں سے اپ ڈیٹ بناتا ہے، جیسے ہیڈفون ہر لمحہ اپنا فلٹر بدلتا رہے، پوری بس کی ریکارڈنگ بار بار نہ چلائے۔ اس سے یاد بھی رہتی ہے اور کٹوتی بھی قابو میں۔
کٹوتی کو سیدھا رکھنے کے لیے وہ پہلے مستقل بھنبھناہٹ ہٹا دیتے ہیں، بس اتنا دیکھتے ہیں کہ اوپر نیچے کیا ہورہا ہے۔ جب یہ اوپر نیچے ہونا سادہ سا ہو تو کئی تہیں خود ہی غائب ہو جاتی ہیں، اور بات آسان رہتی ہے۔ کبھی یہ بھی ٹھیک رہتا ہے کہ اردگرد کو بس بے ترتیب شور سمجھ لو، مگر تب ہی جب دونوں پٹریاں تقریباً ایک جیسی چلیں؛ اگر فرق پڑے تو کٹنے جڑنے والا اثر نظرانداز نہیں ہوتا۔