ڈائناسور کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور ذہین کمپیوٹر
ایک پرانے میوزیم کے کمرے کا تصور کریں جہاں ہڈیوں کو جوڑا جاتا ہے۔ وہاں ایک طالب علم میز کو حیرت سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس پر ڈائناسور کا ڈھانچہ ادھورا ہے۔ صرف چند ہڈیاں وہاں پڑی ہیں، شاید کل کا چوتھا حصہ۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ بڑے ماہر نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تاکہ طالب علم کی سمجھ بوجھ کا امتحان لیا جا سکے۔
عام طور پر شاگردوں کو ایسا ڈھانچہ ملتا ہے جو نوے فیصد مکمل ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہڈی غائب ہو تو ساتھ والی ہڈی دیکھ کر اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے۔ یہ طریقہ آسان تو ہے لیکن اس سے طالب علم سست ہو جاتے ہیں۔ وہ جانور کی پوری بناوٹ کو سمجھنے کے بجائے بس خالی جگہوں کو بھرنے پر لگ جاتے ہیں، جیسے عمارت کی بنیاد سمجھے بغیر دیوار کا پلستر کر دینا۔
ماہر نے میز سے زیادہ تر ہڈیاں ہٹا دیں اور صرف پچیس فیصد باقی چھوڑیں۔ انہوں نے سمجھایا کہ اب آپ کو آس پاس کے اشارے نہیں ملیں گے۔ اس بکھرے ہوئے ڈھانچے کو مکمل کرنے کے لیے آپ کو جانور کی پوری ساخت سمجھنا ہوگی۔ مثلاً صرف کولھے کی ہڈی دیکھ کر یہ بتانا ہوگا کہ ٹانگ کتنی لمبی ہونی چاہیے تاکہ پورا جسم متوازن رہے۔
اس نئے طریقے نے کام کی رفتار بدل دی۔ طالب علم کو اب صرف ان چند ہڈیوں پر محنت کرنی تھی جو میز پر موجود تھیں، اور خالی جگہوں کو فی الحال نظر انداز کرنا تھا۔ چونکہ وہ غائب حصوں پر وقت ضائع نہیں کر رہے تھے، اس لیے ان کا ابتدائی کام معمول سے تین گنا تیزی سے مکمل ہو گیا اور وہ زیادہ ڈھانچوں پر کام کر سکے۔
جب موجود ہڈیوں کی جانچ مکمل ہو گئی، تو اصل امتحان شروع ہوا۔ طالب علم نے اپنی گہری سمجھ بوجھ استعمال کرتے ہوئے باقی پچھتر فیصد حصہ خود تخلیق کیا۔ چونکہ یہ کام مشکل تھا، اس لیے انہوں نے ڈھانچے کے اصولوں کو اتنی گہرائی سے سیکھ لیا جو آسان طریقے سے ممکن ہی نہیں تھا، اور ان کا بنایا ہوا ماڈل زیادہ درست ثابت ہوا۔
یہی اصول کمپیوٹرز کو سکھانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم تصویر کا زیادہ تر حصہ چھپا دیتے ہیں، تو کمپیوٹر صرف رٹا لگانے کے بجائے پوری تصویر کا تصور کرنا سیکھتا ہے۔ تھوڑے سے اشاروں سے پوری حقیقت کو سمجھنا ہی اصل ذہانت ہے، جس سے مشینیں چیزوں کی ماہیت کو بہتر طور پر پہچان لیتی ہیں۔