ٹارچ کی روشنی سے کمرے کی پوری تصویر
میں اندھیرے کمرے کے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ٹارچ، دوسری ہاتھ میں کاپی۔ میں ایک جگہ سے روشنی مارتا، پھر دوسری جگہ سے، اور لکھتا کہ کہاں کیا رنگ جھلکا۔ یہی کام وہ طریقہ کرتا ہے جو کئی تصویروں سے پورا منظر بنا دیتا ہے۔
پھر مشکل سامنے آئی۔ چمکیلی چیز ایک زاویے سے روشن لگتی، دوسرے سے جیسے سیاہ ہو گئی ہو۔ کچھ جگہوں پر کوئی چیز بیچ میں آ کر روشنی روک لیتی۔ چند جھلکیوں سے میں پورا کمرہ بناؤں تو جیسے ہی سر ہلاؤں، خاکہ ٹوٹ جاتا۔
نیا خیال یہ تھا کہ کمرے کو ٹکڑوں میں نہیں، ایک ہی چلتے اصول کی طرح رکھا جائے۔ ہر جگہ کے لیے دو باتیں: یہاں روشنی کتنی رکے گی، اور اس جگہ سے کس سمت دیکھو تو کون سا رنگ آئے گا۔ یوں جگہ وہی رہتی ہے، بس چمک دیکھنے کے رخ سے بدل سکتی ہے۔
تصویر بناتے وقت الٹا کام ہوتا ہے۔ کیمرے کی ہر چھوٹی کھڑکی سے ایک سیدھی لکیر کمرے میں جاتی ہے، بالکل ٹارچ کی کرن جیسی۔ راستے میں کئی جگہیں دیکھی جاتی ہیں۔ جہاں روک زیادہ ہو، آگے کم دکھتا ہے، اور آخر میں جو رنگ جمع ہو وہی تصویر کا رنگ بنتا ہے۔
دو چالاکیوں سے نقشہ صاف ہوا۔ جگہ اور رخ بتانے کا طریقہ زیادہ باریک کیا گیا، جیسے کمرے پر مختلف فاصلے کی لکیریں کھینچ دی ہوں تاکہ ننھی چیز بھی نہ گھلے۔ پھر خالی ہوا میں وقت ضائع نہیں کیا گیا؛ پہلے تیز جھاڑو، پھر بس انہی حصوں میں ٹھہر کر دیکھنا۔
جب یہ ترتیب تصویروں سے خوب میل کھا گئی تو ایسے منظر نکلے جیسے میں کمرے میں نئی جگہ جا کر خود تصویر لے آیا ہوں۔ چمک والے دھبے بھی بہتر بنے، کیونکہ روکنے والی بات جگہ سے بندھی رہی اور رنگ رخ کے ساتھ بدلتا رہا۔ اب ہر زاویے کے لیے نیا خاکہ نہیں بنانا پڑا، بس ایک ہی کمرہ کافی تھا۔