پھٹا ہوا نوٹس اور وہ عادت جو جملے سمجھا دیتی ہے
چوراہے پر کھڑے کھڑے میں نے کھمبے پر لگا نوٹس پڑھا۔ بیچ کے لفظ پھٹے ہوئے تھے، اوپر اور نیچے کی سطریں بچی تھیں۔ میں نے دونوں طرف کے لفظ دیکھ کر بیچ کا مطلب خود جوڑ لیا، جیسے دماغ خالی جگہ بھر دیتا ہے۔
پہلے والے پڑھنے والے اوزار اکثر نوٹس کو بس ایک طرف سے پڑھتے تھے، شروع سے آخر تک۔ بات یہ ہے کہ آخر کے لفظ نظر ہی نہ آئیں تو بیچ کی خالی جگہ پر غلط اندازہ لگ جاتا ہے۔ کبھی الٹی سمت سے الگ پڑھ کر جوڑ دیتے تھے، مگر وہ دو آدھی باتیں لگتی تھیں۔
پھر ایک نیا طریقہ آیا جس میں خالی جگہ جان بوجھ کر بنائی جاتی ہے۔ جیسے کوئی نوٹس کے چند لفظ ٹیپ سے ڈھانپ دے، کہیں غلط لفظ لکھ دے، اور کہیں لفظ ویسے ہی چھوڑ کر بھی پوچھے کہ تم نے واقعی سمجھا یا بس آنکھ سے نقل کیا۔ اردگرد کے لفظوں سے اندازہ لگانا ہی اصل چال ہے۔
یہی نئی بات ہے کہ خالی جگہ بھرتے وقت اوپر والی سطر بھی ساتھ دیکھی جاتی ہے اور نیچے والی بھی۔ بعض لفظوں کا مطلب بعد کے لفظوں سے بدل جاتا ہے، تو دونوں طرف دیکھنے سے غلطی کم ہوتی ہے۔ نوٹس میں نیچے کی سطر بتا دیتی ہے کہ راستہ بند ہے یا بس بھیڑ ہے۔
ایک اور مشق بھی ہوتی ہے: کیا دوسری سطر واقعی پہلی کے بعد آتی ہے؟ جیسے نوٹس کے نیچے کبھی اسی نوٹس کا اگلا حصہ چپکا ہو، اور کبھی کسی اور اعلان کا کاغذ۔ پڑھنے والا فرق پہچاننا سیکھتا ہے، تو سوال اور جواب جیسی جوڑیوں میں بات زیادہ صاف بیٹھتی ہے۔
اس مشق کے بعد ہر بار نیا اوزار بنانا نہیں پڑتا۔ وہی پڑھنے کی عادت رہتی ہے، بس آخر میں کام بدل جاتا ہے: خالی لفظ چن لو، نام والے لفظ پہچان لو، یا عبارت میں وہ جگہ دکھا دو جہاں جواب چھپا ہے۔
چوراہے پر میں نے نوٹس کا مطلب سمجھ لیا، اور ہر نئے نوٹس کے لیے نئی چال نہیں ڈھونڈی۔ دونوں طرف دیکھنے کی عادت اور اگلی سطر کی جانچ، یہی فرق تھا پہلے والوں کے مقابلے میں۔ آج کل کئی لکھت پڑھت والے اوزار اسی طرح کی عادتوں سے زیادہ ٹھیک کام کر پاتے ہیں۔