دیوار کے پار کچھ نہیں جاتا، پھر بھی جواب مل جاتا ہے
میں ایک تفریحی پزل بوتھ میں گیا۔ موٹی دیوار، ساتھ والے بوتھ سے بات منع۔ ہر بندے کو ایک بند ڈبہ ملا، اوپر دو بٹن۔ میزبان نے شروع میں دونوں ڈبوں کو ایک خاص جوڑی کی طرح جوڑ دیا۔ باہر ہال کا اسکور بورڈ تب تک بند رہا جب تک ہم دونوں ڈبے ایک ہی میز پر نہ لائے۔ مطلب: دیوار پار کچھ نہیں جاتا، نتیجہ تب بنتا ہے جب دونوں حصے اکٹھے ہوں۔
اپنے بوتھ میں میں نے سوچا، اگر میں یہ بٹن دباؤں تو شاید دوسرے ڈبے میں فوراً کچھ بدل جائے۔ میزبان نے نیا موڑ دکھایا: ڈبہ جواب زور سے نہیں بتاتا، بس اپنے اندر ایک چھوٹے خانے میں لکھ لیتا ہے۔ میں جو بھی دباؤں، صرف میرے ڈبے کا اندر والا ریکارڈ بدلتا ہے۔ اسکور بورڈ پھر بھی خاموش، جب تک دونوں اندرونی ریکارڈ میز پر نہ ملیں۔
اگلے کمرے میں بھی ڈبہ ہی تھا، بس ساتھ ایک چرخی اور بھاری وزن لگا تھا۔ ایک نگران نے نوٹ بک پکڑی۔ اصول یہ تھا: اگر نگران ڈبے کے اندر چھپا سکہ صحیح پہچان لے، تو چرخی کھینچ کر وزن ایک قدم اوپر کر سکتا ہے۔ وہ اندازہ جادو سے نہیں لگاتا، ڈبے کو چھو کر وہی نشان نوٹ بک میں نقل کرتا ہے۔ نوٹ بک درست ہو تو وزن اوپر، غلط ہو تو نیچے۔
ہر راؤنڈ کے بعد ڈبہ پھر سے ایسے گڈمڈ ہو جاتا جیسے نیا سکہ اچھلا ہو۔ پھر مسئلہ نکلا: نوٹ بک اگر صاف نہ کی جائے تو اس میں پرانے نشان بھر جاتے ہیں۔ ایسی گندی نوٹ بک نئے ڈبے سے اکثر نہیں ملتی، تو وزن کبھی اوپر کبھی نیچے، اور فائدہ ختم۔ نگران کو ہر بار محنت کر کے صفحہ صاف کرنا پڑتا ہے۔ سادہ بات: صاف یادداشت کام کی چیز ہے، اور مٹانا مفت نہیں۔
آخر میں ایک راہداری تھی جس میں یک طرفہ دروازہ گھوم کر اسی جگہ لوٹ آتا تھا۔ اصول سخت تھا: جو حالت اندر جائے، وہی حالت باہر آئے، ورنہ دروازہ مانتا ہی نہیں۔ میزبان نے کنٹرول پینل سے یہ کیا کہ راہداری میں جانے والا ڈبہ میرے منتخب کارڈ کے حساب سے پہلے ہی تیار کر دیا۔ اس عجیب شرط سے ایک نیا کمال نکلا: کچھ ایسے کارڈ جو عام طور پر ایک جیسے لگتے ہیں، اب ایک ہی بار میں الگ پہچانے جا سکتے تھے۔
باہر نکلتے ہوئے میں نے وہی ڈبہ ہاتھ میں گھمایا۔ پہلی جگہ دیوار سلامت رہی کیونکہ ہر بٹن صرف اپنے ڈبے کے ریکارڈ کو چھوتا تھا۔ دوسری جگہ چرخی تب ہی چلتی رہی جب نوٹ بک بار بار صاف ہوئی۔ تیسری جگہ لوپ نے “ایک جیسا اندر، ایک جیسا باہر” کی ضد سے غیر معمولی طاقت دکھا دی۔ مجھے لگا قوانین نعرے نہیں، حساب کتاب ہیں: کون کس کو چھو سکتا ہے، کس کو ری سیٹ کرنا پڑتا ہے، اور کون سی بات کو کمرہ ہونے ہی نہیں دیتا۔