پاس بنانے والا اور پکڑنے والا: کیسے نقل اتنی اصل لگتی ہے
چلتی بھیڑ کے کنارے ایک سڑک والا فنکار چھوٹا سا اسٹال لگا رہا تھا۔ دوست گیٹ پر کھڑا تھا، اصلی پاس ہاتھ میں، اور ہر کاغذ پر بس ہاں یا نہ۔ فنکار نیا پاس چھاپتا، دوست نقص پکڑ لیتا، اور فنکار پھر سے بہتر کرنے لگتا۔
بات صرف ایک پاس چھاپنے کی نہیں تھی۔ بات یہ تھی کہ ہر بار ایسا نیا پاس نکلے جس میں وہی باریک نشانیاں ہوں جو اصلی پاسوں میں ہوتی ہیں، مگر کسی ایک اصلی پاس کی سیدھی نقل نہ ہو۔ پہلے لوگ اکثر لمبے چکر لگاتے یا ہر پاس کو ناپنے کی مشکل گنتی ڈھونڈتے تھے، اس میں وقت لگتا تھا۔
یہ نیا کھیل دو حصوں میں چلتا ہے۔ فنکار کے پاس جیسے خالی کاغذ کے بے ترتیب ٹکڑے ہوں، وہ ان سے پورا پاس بنا دیتا ہے۔ گیٹ والا دوست پاس دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے کہ یہ اصلی لگتا ہے یا نہیں۔ فرق یہ ہے کہ فنکار کے پاس کوئی مکمل قاعدوں کی کتاب نہیں، وہ دوست کے ردعمل سے سیدھا سیکھتا ہے۔
رفتہ رفتہ ایک تال بن گئی۔ دوست اصلی اور چھپے ہوئے پاسوں کا ملا جلا ڈھیر دیکھ کر اپنی نظر تیز کرتا گیا۔ پھر فنکار اپنے چھاپے میں وہی جگہیں ٹھیک کرتا جن پر دوست کی انگلی جاتی تھی، جیسے لکھائی کا وزن، خالی جگہ، یا مہر کی جگہ۔ یہی اشارے اگلی بار پاس کو کم مشکوک بناتے تھے۔
شروع میں دوست اتنا سخت نکلا کہ ہر پاس فوراً رد ہو جاتا، تو فنکار کو سمجھ نہیں آتی تھی کہاں سے سنوارے۔ تو فنکار نے سوچ بدلی، مقصد یہ نہیں رکھا کہ بس پکڑا نہ جاؤں، مقصد یہ رکھا کہ کسی طرح ہاں سن لوں۔ اس سے اسے صاف پتہ چلنے لگا کہ اگلی بار کس طرف بدلنا ہے۔
ایک وقت آیا کہ دوست کی ہاں اور نہ تقریباً اندھیرے میں تیر چلانے جیسی ہو گئی، کیونکہ چھپے پاسوں کی مجموعی شکل اصلی ڈھیر جیسی لگنے لگی۔ لیکن ایک خطرہ بھی تھا۔ فنکار کو ایک ایسا ڈیزائن مل جائے جو کبھی کبھی چل جاتا، تو وہ وہی بار بار چھاپنے لگتا، جبکہ اصلی ڈھیر میں طرح طرح کے پاس تھے۔
اس کھیل کی خاص بات یہ تھی کہ فنکار ایک ہی بار میں نیا پاس نکال لیتا، لمبے چکر نہیں لگانے پڑتے تھے اور کوئی کڑا ناپ تول بھی نہیں چاہیے تھا۔ میں نے دیکھا، جب پکڑنے والا اور بنانے والا برابر رہیں تو پاس بہت اصلی لگتا ہے، اور جب توازن بگڑے تو یا تو سب پکڑ میں آ جاتا ہے یا سب ایک ہی جیسا بننے لگتا ہے۔