ڈھلوان پر بدلتی ہوا، اور سیدھا چلتی سمجھ
لمبی ڈھلوان پر سائیکل تیز ہو رہی تھی۔ کبھی ہوا دھکا دیتی، کبھی کنکری پر پہیہ ہلتا۔ ایک ہاتھ بریک پر، ایک ہینڈل پر۔ یہ سفر ویسا ہے جیسے کمپیوٹر کو بہتر بنانا، راستہ مقصد ہے، اور ہر جھٹکا وہ اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہاں سنبھلنا ہے۔
سوار نے سادہ اصول بنایا: ذرا سا بہکے تو اتنا ہی بریک دباؤ اور واپس موڑ دو۔ ہموار جگہ پر بات بن گئی۔ کھردری جگہ پر وہی دباؤ زیادہ نکلا، رفتار ٹوٹ گئی یا پہیہ پھسلنے لگا۔ ایک ہی انداز ہر حالت میں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔
پھر ایک نئی ترکیب سوجھی۔ سوار نے دو چلتی ہوئی یادیں رکھیں: ایک یہ کہ پچھلی تھوڑی دیر میں ہوا زیادہ تر کس طرف دھکیل رہی ہے، دوسری یہ کہ راستہ کتنا ہچکولے دے رہا ہے۔ جیسے ہینڈل اور بریک کے ہر چھوٹے حصے کے لیے الگ اندازہ بنتا رہے۔
اب ردِعمل بدلا۔ سوار عام دھکے کی سمت میں موڑتا، لیکن جب ہچکولے بڑھ جاتے تو ہاتھ ہلکا رکھتا۔ صاف بات: پہلی یاد سمت بتاتی ہے، دوسری یاد شور کی سختی۔ جب شور زیادہ ہو تو حرکت کم۔ نتیجہ یہ کہ اچانک جھٹکا سوار کو بہکا نہیں پاتا۔
شروع میں دونوں یادیں کمزور تھیں، کیونکہ ابھی ہوا اور کنکری کا اندازہ بنا ہی نہیں تھا۔ سوار نے خود کو ٹوکا: ابھی تو میں نے تھوڑا سا ہی دیکھا ہے، جلدی فیصلہ نہ کروں۔ اسی سے آغاز کے قدم بے قابو نہیں ہوئے، خاص کر جب کھردراپن آہستہ آہستہ سمجھ میں آتا ہے۔
جیسے جیسے نیچے راستہ سیدھا اور نرم ہوا، ہوا کا دھکا بھی بے رنگ سا ہو گیا۔ سوار نے بڑی بڑی کٹیں لگانا چھوڑ دیں اور بس سیدھا چلتا رہا۔ جب فائدہ والا اشارہ مدھم ہو تو ہاتھ خود ہی نرم پڑ جاتا ہے، تو اچھے مقام کے پاس جا کر حد سے آگے نہیں نکلتا۔
ڈھلوان کے آخر میں سوار ایک ہی بریک دباؤ ڈھونڈنے کی ضد میں نہیں تھا۔ دو یادیں اور شروع کی احتیاط نے اسے تیز بھی رکھا اور سیدھا بھی، چاہے ہوا بدلے یا کنکری آئے۔ یہی نیا پن ہے: ہر حصے کی رفتار خود بدلتی ہے، سمت اور کھردراپن دیکھ کر، اور آغاز میں لڑکھڑاہٹ نہیں رہتی۔