گرین ہاؤس کے دروازے اور وہ کمرے جو خود ہی ٹھیک جگہ بیٹھ جاتے ہیں
سورج نکلنے سے پہلے میں لمبے گرین ہاؤس میں چل رہا تھا۔ ہر کمرے میں دو مددگار تھے، ایک ہیٹر بڑھاتا، دوسرا فوراً کم کرتا کہ پودے جل نہ جائیں۔ آج میرا ہدف عجیب تھا، دروازے ایسے رکھوں کہ سارا گرین ہاؤس چند طے شدہ آرام دہ حالتوں میں سے کسی ایک پر آ کر ٹک جائے۔
مسئلہ یہ تھا کہ کمرے جڑے ہوں تو گرمی ادھر ادھر بہتی رہتی ہے۔ غلط دروازے کھل جائیں تو ایک کمرہ دوسرے کو چھیڑتا ہے، پھر وہ واپس، اور سارا نظام ہلتا رہتا ہے۔ ایسی جڑت کبھی کبھی سکون کے بجائے شور پیدا کرتی ہے۔
میں نے نیا کام یہ کیا کہ پہلے ہی چند آخری حالتیں خود چن لیں۔ پھر دروازوں کی ترتیب ایسی بنائی کہ وہ حالتیں گرین ہاؤس کی اپنی پسندیدہ ٹھہرنے کی جگہیں بن جائیں۔ ہیٹر بڑھانے والے نقشے بدلتے رہے، مگر کم کرنے والا انداز ہر جگہ ایک سا رکھا، تاکہ پہچان وہاں نہ چھپ جائے۔
یہی نقشہ اصل بات ہے۔ کمرے، جڑے ہوئے حصے ہیں۔ ہر کمرے کے دو مددگار، اندر کی دو مخالف طاقتیں ہیں۔ دروازے وہ راستے ہیں جن سے اثر ایک کمرے سے دوسرے میں جاتا ہے، اور باہر کی طرف دھکا زیادہ تر ہیٹر والی طرف سے جاتا ہے۔ وہ طے شدہ حالتیں ناموں جیسی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پہچان اس بات سے بنتی ہے کہ نظام کس ٹھہری ہوئی حالت میں جا بیٹھتا ہے۔
لیکن اگر ہلکی سی ہوا بھی اس حالت کو گرا دے تو فائدہ نہیں۔ میں نے ہر دروازے کی طاقت کے لیے دیکھا کہ چھوٹا سا جھٹکا وقت کے ساتھ دب جاتا ہے یا بڑھتا ہے۔ پھر میں نے دروازوں کے نوب اسی محفوظ حد میں رکھے، تاکہ گرین ہاؤس کبھی جھولے میں نہ پڑے۔
پھر روز کا ٹیسٹ ہوا۔ میں نے شروع میں درجہ حرارت کو جان بوجھ کر بکھرا رکھا، اور کمرے تھوڑا تھوڑا کر کے ایک دوسرے پر اثر ڈالتے رہے۔ آخر میں دیکھا کہ وہ کس طے شدہ حالت کے قریب جا رکا۔ اگر غلط جگہ رکا تو میں نے دروازے ذرا سا موڑے، مگر اسی شرط کے ساتھ کہ نظام پھر بھی پرسکون رہے۔ بعد میں میں نے الٹا بھی چلایا، ٹھہری ہوئی حالت سے پیچھے جا کر شروع کی ایک شکل واپس نکلی۔
جب یہ طریقہ چیزوں کی پہچان والے کاموں پر آزمایا گیا تو وہ طے شدہ حالتیں واقعی قابلِ بھروسا منزلیں بنیں۔ دھندلی سیاہ سفید تصویروں میں بھی نظام اکثر صحیح جگہ جا بیٹھا، اور جب پہلے سے تصویر کو سادہ کر کے دیا گیا تو اور بہتر چلا۔ فرق یہ تھا کہ پہلے بس امید ہوتی تھی کہ جڑت ٹھیک رہے گی، اب سکون کو جان بوجھ کر ڈیزائن میں باندھا گیا تھا۔