شفاف شیٹ والے خانے اور تصویر میں چیزیں ڈھونڈنے کی نئی چال
میوزیم کی ورکشاپ میں میں نے دیوار جتنی ٹَیپسٹری پر جھک کر دیکھا۔ انگلی سے دھاگے گننے کے بجائے میں نے کپڑے پر ایک شفاف پلاسٹک شیٹ رکھی، جس پر طرح طرح کے خانے بنے تھے۔ میں ہر جگہ ایک خانے پر ہلکا سا ٹھپہ دیتی، پھر کنارے ذرا سا سرکا کر ٹھیک بٹھا دیتی۔
پہلے طریقہ ایسے تھا جیسے ایک مددگار پورا کپڑا گھوم کر پنسل سے بہت سے دائرے بنا دے، پھر دوسرا آدمی آ کر بتائے کہ یہ کیا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ دائرے بنانے والا حصہ الگ چلتا تھا، دیر بھی لگاتا تھا، اور اکثر بےکار نشان بھی بہت بنا دیتا تھا۔
نئی بات یہ نکلی کہ مددگار کو الگ نہ رکھا جائے۔ شیٹ کے خانے ہر جگہ پہلے سے موجود “سانچے” ہوں، مختلف سائز اور شکل کے، تاکہ چھوٹی اور بڑی چیز دونوں پکڑی جائیں۔ یوں بار بار کپڑے کی الگ الگ بڑی چھوٹی نقلیں بنانے کی ضرورت نہیں رہتی، ایک ہی منظر پر سب کام ہو جاتا ہے۔
ہر جگہ ہر سانچے پر دو کام ہوتے ہیں۔ ایک تیز سا اشارہ کہ یہاں واقعی کچھ ہے یا بس پس منظر ہے، جیسے ٹھپہ ہاں یا نہ۔ دوسرا کام خانے کو ذرا سا کھسکا کر اور پھیلا کر اصل حد کے قریب لانا۔ سکھانے میں جو خانے چیز کو اچھا ڈھانپیں وہ “اچھے”، جو دور ہوں وہ “برے”، اور بیچ والے زیادہ تر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
جب یہ حصہ چند اچھے خانے چن دیتا ہے تو اگلا حصہ آتا ہے۔ وہ ہر چنے ہوئے حصے کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے، اور خانے کو آخری بار اور ٹائٹ کر دیتا ہے۔ دونوں ایک ہی پہلی نظر والا کام بانٹتے ہیں، جیسے ایک ہی لیمپ کی روشنی میں پہلے چھانٹی، پھر پہچان۔
مجھے فرق تب محسوس ہوا جب شیٹ پر خانے کم رہ گئے، مگر کام صاف ہو گیا۔ پہلے انتظار دائرے بنانے والے پر تھا، اب خانے وہیں سے نکلتے ہیں جہاں پہچان بھی ہو رہی ہے۔ یہی الٹ بات ہے: ہاتھ سے خانے گھڑنے کے بجائے، خانے چننا اور ٹھیک کرنا اسی نظر سے سیکھ لیا گیا۔ روزمرہ تصویروں میں چیزیں ڈھونڈنا اسی وجہ سے تیز ہو سکتا ہے۔