بارش میں آدھا پتہ، اور جسم کی ایک ننھی گتھی
بارش تیز تھی، کورئیر کے ہاتھ میں لیبل پھٹا ہوا تھا۔ گلی کا نام مٹ چکا تھا، سامنے ایک ہی جیسی داخلی راہیں تھیں۔ وہ ایک اشارے پر ٹکا نہیں، لیبل کے بچے حرف، پاس کی گلیوں کا خاکہ، اور عمارت کو ساتھ ساتھ دیکھتا رہا۔
اکثر پرانے انداز ایسے تھے جیسے کورئیر پہلے لیبل کو گھورتا رہے، پھر نقشہ کھولے، اور آخر میں دروازے پر جا کر ملائے۔ اس بیچ غلط خیال جم جائے تو بعد کی چیزیں بھی اسی کے مطابق زبردستی فٹ ہونے لگتی ہیں۔
پھر ایک نیا کمپیوٹر اوزار آیا جو تینوں نظر ایک ساتھ رکھتا ہے۔ ایک نظر زنجیر جیسی ترتیب پر، ایک نظر اس پر کہ کون سے حصے ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں، اور ایک نظر جگہ میں بنتی ہوئی ہڈی جیسی شکل پر۔ یہ اشارے ادھر ادھر چلتے رہتے ہیں تاکہ بات جلد سیدھی ہو جائے۔
کورئیر نے بھی یہی کیا۔ لیبل کے حرفوں سے اس نے ممکنہ گلی چنی، خاکے سے صحیح موڑ دیکھے، پھر داخلی راستوں سے پکا کیا۔ جب دروازے کا انداز خاکے سے نہ ملا تو وہ واپس جا کر گلی والا اندازہ بدل گیا۔ لیبل کی جھلک زنجیر کی ترتیب جیسی ہے، خاکہ قریب ہونے کی خبر، اور عمارت دیکھنا جگہ والی شکل کی جانچ، بات یہ ہے کہ بار بار ٹھیک کرنا کام بناتا ہے۔
ایک رکاوٹ یہ بھی تھی کہ لمبی زنجیر کو ایک ساتھ پکڑنے میں کمپیوٹر کی یادداشت تھک سکتی ہے۔ یہ اوزار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے، جیسے کورئیر لیبل کے الگ الگ صاف حصوں سے سمجھ لے کہ یہ اشارے عموماً کیسے جڑتے ہیں، پھر کئی چھوٹے اندازے ملا کر پورا پتہ بناتا ہے۔
آخر میں یہ دو طرح سے شکل نکال سکتا ہے۔ ایک راستہ پہلے اندازہ لگاتا ہے کہ حصوں کے بیچ فاصلہ اور رخ کیسا ہو سکتا ہے، پھر بعد میں تفصیل جوڑ کر شکل بٹھاتا ہے، اس میں آخری صفائی زیادہ لگتی ہے۔ دوسرا راستہ سیدھا جگہ میں ہڈی جیسی شکل بنا دیتا ہے، یہ زیادہ سیدھا ہے مگر طریقہ مختلف ہے۔
فائدہ تب دکھا جب مشکل گتھیاں سامنے آئیں۔ بہتر اندازے سے کچھ سخت پیمائشیں اپنی جگہ بیٹھنے لگیں، اور یہ بھی سمجھ آنے لگی کہ کئی زنجیریں مل کر کیسے چپک سکتی ہیں، جیسے کورئیر ایک دروازہ ہی نہیں، ساتھ والی راہوں کا جوڑ بھی پہچان لے۔ پہلے لوگ کامل جواب کے انتظار میں رکتے تھے، اب بہتر اندازہ اگلا قدم چننے میں ہاتھ بٹا سکتا ہے۔