بھاری ہیلی کاپٹر اور ہلکا بستہ
پہاڑی ریسکیو بیس پر صبح کا وقت ہے۔ ایک طرف 'ہیوی لفٹ' ٹیم اپنا بڑا ہیلی کاپٹر تیار کر رہی ہے، جس کا شور کان پھاڑ رہا ہے اور اسے اڑانے کے لیے ڈھیروں پیٹرول چاہیے۔ دوسری طرف، کونے میں 'ریپڈ ریسپانس' کے دو لوگ خاموشی سے اپنے ہلکے بستے (rucksacks) چیک کر رہے ہیں، جو پیدل چلنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
برسوں سے بیس کمانڈر یہی سمجھتے آئے تھے کہ بڑا ہیلی کاپٹر ہی بہتر ہے کیونکہ وہ طاقتور ہے۔ لیکن جب کسی تنگ گھاٹی میں کچھ تلاش کرنا ہو، تو یہ بڑا سائز مصیبت بن جاتا ہے۔ ہیلی کاپٹر وہاں تک پہنچنے میں ہی ہزاروں کا ایندھن جلا دیتا ہے، اور اکثر اوپر سے وہ چیز نظر بھی نہیں آتی جو زمین پر چلنے والا ٹیم ممبر آسانی سے دیکھ لیتا ہے۔
نئے اسٹیشن چیف نے آکر ٹیموں کو جانچنے کا طریقہ بدل دیا۔ انہوں نے سوال کیا: 'سب سے طاقتور کون ہے؟' کے بجائے یہ پوچھا کہ 'کون کم سے کم سامان کے ساتھ بہتر نتیجہ دیتا ہے؟' انہوں نے اسے 'PePR اسکور' کا نام دیا۔ مقصد اب صرف طاقت دکھانا نہیں، بلکہ کم خرچ میں صحیح نشانہ لگانا تھا۔
جب حساب لگایا گیا تو حیران کن بات سامنے آئی۔ اگرچہ بڑا ہیلی کاپٹر 99 فیصد کامیاب تھا، لیکن اس کا خرچہ بہت زیادہ تھا۔ دوسری طرف، چھوٹی ٹیم کی کامیابی 98.5 فیصد تھی، لیکن ان کی لاگت نہ ہونے کے برابر تھی۔ صرف آدھا فیصد بہتر نتیجے کے لیے اتنا بڑا ہیلی کاپٹر اور پیٹرول ضائع کرنا کوئی عقلمندی نہیں تھی۔
ہزاروں مشقوں سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایک حد کے بعد مزید سامان لادنے سے رزلٹ بہتر نہیں ہوتا، بس بوجھ بڑھتا ہے۔ پھر یہ چھوٹی ٹیمز پرانے نقشوں (maps) کا استعمال کرتی ہیں بجائے اس کے کہ ہر بار پورا پہاڑ نئے سرے سے سروے کریں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کمپیوٹر سسٹم پرانی معلومات سے سیکھ کر جلدی جواب دیتے ہیں۔
اس نئی سوچ نے ثابت کیا کہ ایک چھوٹی اور ماہر ٹیم بھی بڑے آپریشن کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دور دراز گاؤں کا کوئی چھوٹا کلینک بھی، جہاں بجلی اور بجٹ کم ہو، اب مہنگے کمپیوٹرز کے بغیر بھی بہترین تشخیص (diagnosis) کر سکتا ہے۔