چھوٹی تصویروں سے بڑا پوسٹر، اور باریک سرحدوں کی ضد
لمبی میز پر میں چھوٹی چھوٹی تصویری پرنٹس پھیلا کر دیوار والا بڑا پوسٹر بنانے لگا۔ کچھ پرنٹس اوپر نیچے آ رہے تھے، کچھ فوٹو کاپی سے ذرا کھنچ گئے تھے۔ مشکل وہاں تھی جہاں دو ملتی شکلیں آپس میں لگتی تھیں، باریک لکیر گم ہو جاتی تھی۔
پرنٹس کا ڈھیر بھی کم تھا، اور جن پر نشان لگے تھے وہ تو اور بھی کم۔ ایسے میں ہاتھ بھی ڈرتا ہے کہ کہیں غلط لکیر نہ کھنچ جائے۔ یہی مشکل جسم کی تصویروں میں بھی آتی ہے، کیونکہ ہر باریک کنارے پر نشان لگانا کسی ماہر کا بہت وقت لے جاتا ہے، تو مثالیں کم رہ جاتی ہیں۔
پھر ایک نئی ترکیب نے کام آسان کیا۔ میں ایک طرف دور ہٹ کر پوری ترتیب دیکھتا، دوسری طرف جھک کر کنارے دوبارہ کھینچتا۔ فرق یہ تھا کہ میں پہلے والی تیز نوٹیں ساتھ رکھتا، تاکہ بعد میں لکیر بناتے وقت اندازہ نہ لگانا پڑے۔
پوسٹر میں دو چیزیں ایک ساتھ چلتی رہیں: دیوار پر کہاں کیا بیٹھے گا، اور قریب سے وہ باریک کٹ کہاں ہے۔ جسم کی تصویر میں بھی یہی جوڑی کام کرتی ہے: ایک نظر پورا منظر سمجھتی ہے، دوسری نظر باریک حدیں واپس صاف کرتی ہے، اور پہلے کے صاف اشارے سیدھے آگے پہنچتے ہیں۔ سبق یہ کہ دھندلے منظر سے اکیلی صاف لکیر نہیں بنتی، اور صرف کناروں سے پوری جگہ نہیں بنتی۔
جب تصویر بہت بڑی ہو تو میں اسے ٹکڑوں میں جوڑتا ہوں، پرنٹس کو تھوڑا تھوڑا اوورلیپ کر کے، پھر نشان ملاتا ہوں۔ کنارے پر کٹاؤ نہ لگے، اس لیے میں پرنٹ کو الٹ کر جیسے ایک جعلی حاشیہ بنا لیتا ہوں۔ کم مثالوں کے لیے میں ہلکا سا موڑ کھا چکی تصویروں پر بھی مشق کرتا ہوں، تاکہ اصل میں شکل ٹیڑھی ہو تو ہاتھ نہ اٹکے۔
سب سے خطرناک جگہ وہ پتلا سا خلا تھا جہاں دو شکلیں چپک جاتی تھیں۔ وہاں میں جان بوجھ کر زیادہ گہرا نشان لگاتا، کیونکہ ذرا سی لغزش دونوں کو ایک دھبہ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح نقشہ بنانے میں اس باریک سرحد پر زیادہ سختی رکھی جاتی ہے، تاکہ پڑوسی حصے مل کر ایک نہ بن جائیں۔
آخر میں دیوار پر بڑا پوسٹر دیکھ کر فرق صاف تھا: ترتیب بھی درست، اور باریک حدیں بھی قائم، کوئی چیز دوسری میں گھلی نہیں۔ پہلے میں اکثر کناروں پر اندازہ لگاتا تھا، اب پرانی تیز باتیں ساتھ ہونے سے ہاتھ سیدھا چلتا تھا۔ یہی جوڑ، ٹکڑوں کا سلیقے سے ملاپ، اور سرحدوں پر خاص دھیان مل کر تصویر کے دھندلے بادل کو صاف نقشہ بنا دیتے ہیں۔