بلیک ہول اور پیراشوٹ کا راز
ایک دھوپ بھری دوپہر میں دوستوں کا ایک گروپ پارک میں بڑے سے رنگین پیراشوٹ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ وہ کناروں سے کپڑے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی کوئی بیچ میں ایک بھاری گیند پھینکتا ہے، سب کو اپنے ہاتھوں پر ایک زوردار کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ یہ پیراشوٹ ہماری کائنات کی چادر جیسا ہے، اور وہ گیند ایک ستارے کی طرح ہے جو اپنے وزن سے خلا کو موڑ دیتا ہے۔
اب ذرا سوچیں کہ پیراشوٹ کے عین بیچ میں ایک سوراخ ہے جہاں سے گیند گر کر غائب ہو جاتی ہے۔ پرانا خیال یہ تھا کہ جیسے ہی گیند نظروں سے اوجھل ہو گی، کپڑے کا کھنچاؤ ختم ہو جائے گا اور وہ ڈھیلا پڑ جائے گا۔ یعنی گیند کی ساری معلومات ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گی۔ سائنسدانوں کو بلیک ہول کے بارے میں یہی پریشانی تھی کہ وہ چیزوں کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔
لیکن اگر آپ دوستوں کے ہاتھوں پر غور کریں تو ایک حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے۔ گیند کے سوراخ سے گزر جانے کے بعد بھی کپڑا ڈھیلا نہیں ہوتا بلکہ تنا رہتا ہے۔ کششِ ثقل کا قانون کپڑے کو واپس سکڑنے نہیں دیتا۔ یہ مسلسل کھنچاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ اندر گرنے والی چیز کا اثر باہر موجود رہتا ہے۔ خلا کا یہ دباؤ ایک ریکارڈ کی طرح کام کرتا ہے۔
اب اگر ہوا کا جھونکا اس تنے ہوئے پیراشوٹ پر لہریں پیدا کرے، تو وہ لہریں ڈھیلے کپڑے کی نسبت الگ انداز میں چلیں گی۔ کپڑے کا کھنچاؤ ان لہروں پر ایک خاص نمونہ بنا دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح بلیک ہول کے کنارے بننے والے ننھے ذرات خالی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس کھنچاؤ کا اثر اپنے ساتھ باہر لاتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ اندر کیا چھپا ہے۔
ہمیں یہ جاننے کے لیے سوراخ کے اندر چھلانگ لگانے کی ضرورت نہیں کہ وہاں کیا گرا تھا۔ ہم صرف کناروں تک پہنچنے والی لہروں کے پیٹرن کو پڑھ کر پوری کہانی جان سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ معلومات کبھی غائب نہیں ہوئیں، وہ تو ہمیشہ سے اس کھنچاؤ اور لہروں کے ذریعے باہر کی دنیا سے جڑی ہوئی تھیں۔