دو الگ الارم، ایک ہی حادثہ
رات کی ڈیوٹی میں وہ دیوار والے نقشے کے نیچے بیٹھا تھا۔ کمرے میں بس بتیوں کی ٹک ٹک تھی۔ ایک سکرین فون نہیں تھی، لیزر والی مشین کی خبر تھی جو خلا اور وقت میں بہت ہلکی سی کھنچاؤ ناپتی ہے۔ پھر اوپر سے ایک اور لائن پر سیٹلائٹ نے تیز چمک کی اطلاع دی۔
پہلے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایک ہی طرف سے خبر آتی، یا تو چمک دکھتی یا بس کپکپاہٹ جیسا اشارہ۔ ڈسپیچر کے لیے یہ ایسے تھا جیسے کسی حادثے کی صرف دھندلی ویڈیو آئے یا صرف ٹوٹی پھوٹی کال۔ بات یہ ہے کہ جب دو الگ لائنیں ایک ہی وقت کے آس پاس ایک بات کہیں تو جگہ کا سراغ پکا ہونے لگتا ہے۔
پہلا اشارہ اسی لیزر والی مشین سے آیا۔ آواز کی طرح اس کا لہجہ آہستہ آہستہ اوپر چڑھا، پھر اچانک بند ہو گیا، جیسے ٹکر کے بعد خاموشی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ دو بہت گھنے جسم تھے، نیوٹران ستاروں جیسے، مگر صرف اسی اشارے سے ہر اور امکان پوری طرح ختم نہیں ہوتا۔ فاصلہ بھی کائناتی پیمانے پر نسبتاً قریب تھا، قریب چالیس میگا پارسیک۔
اس کے کچھ ہی لمحوں بعد سیٹلائٹ نے گاما شعاعوں کی ایک چھوٹی سی جھلک پکڑی۔ وہ بہت طاقتور نہیں تھی، لیکن وقت ایسا جڑا کہ لگنے لگا دونوں کالیں ایک ہی ٹکر کی ہیں۔ ڈسپیچر کی زبان میں، پہلے کمپن کی خبر آئی، پھر اسی حادثے کی ایک چھوٹی سی چنگاری کی رپورٹ۔
اب نقشہ کام آیا۔ پہلی مشین نے آسمان کا بس ایک بڑا سا حصہ بتایا، جیسے شہر کا محلہ۔ ٹیموں نے اسی حصے میں قریب کی کہکشاؤں کو پہلے دیکھا۔ چند گھنٹوں میں NGC 4993 میں ایک نئی روشنی نظر آئی، جو پہلے نہیں تھی۔ پھر دنوں میں اس کا رنگ تیزی سے بدلا، پہلے نیلا سا، پھر لال سا، جیسے ملبے کی گرمی سے نئی بھاری چیزیں بن رہی ہوں۔
کچھ دن بعد اسی جگہ سے ایکس رے اور ریڈیو کے اشارے بھی آنے لگے، جیسے دور سے جلنے کی چرچراہٹ سنائی دے۔ کچھ دوسری لائنیں خاموش رہیں، جیسے نیوٹرینو والے الارم۔ پہلے ایک اشارہ ہوتا تو کہانی ادھوری رہتی، اب ایک ہی پتے پر کئی طرح کی خبریں ملیں، اور ڈسپیچر کے نقشے پر نقطہ واقعی بن گیا۔