دھندلی ندی کا راز
تصور کریں آپ ایک ایسے دریا کے کنارے کھڑے ہیں جہاں شدید دھند چھائی ہے۔ یہاں پانی کا بہاؤ عام سمجھ سے باہر ہے۔ ایک کشتی کسی ایک جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ہی وقت میں ہر ممکن لہر پر تیر رہی ہے۔ یہ ایک دھندلے سائے کی طرح ہے جو ہر راستے پر موجود ہے۔
دریا میں چٹانیں اور لہریں بھی موجود ہیں۔ جب یہ سایہ نما کشتی ان رکاوٹوں سے ٹکراتی ہے، تو اس کا جادو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ مسلسل رگڑ اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ دھند سے نکل کر ایک واضح راستے پر آ جائے۔ دنیا کا شور ہی ان تمام امکانات کو ایک ٹھوس حقیقت میں بدل دیتا ہے۔
سائنسدانوں نے دیکھا ہے کہ پودے اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے اندر توانائی کے ذرات، کشتی کی طرح، پتھروں سے بچ کر نکلتے ہیں۔ وہ اسی دھندلی کیفیت میں ہر ممکن راستہ ٹٹول لیتے ہیں تاکہ رکاوٹوں میں پھنسنے سے پہلے سورج تک پہنچنے کا سب سے چھوٹا اور بہترین راستہ مل سکے۔
لیکن یہاں ایک بڑی پہیلی باقی ہے۔ چٹانیں یہ تو بتا دیتی ہیں کہ راستہ صاف کیسے ہوا، مگر یہ طے کون کرتا ہے کہ کشتی دائیں والے راستے پر جائے گی یا بائیں؟ لہروں میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی جو یہ فیصلہ کر سکے کہ آخر انتخاب کیا ہو گا۔
کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ شاید دریا کی تہہ کا بوجھ کشتی کو کسی ایک طرف کھینچ لیتا ہے۔ لیکن جب زمین کی گہرائی میں آلات لگا کر اس "کھینچاؤ" کی آواز سننے کی کوشش کی گئی، تو صرف خاموشی ملی۔ شاید جواب کشش یا وزن میں نہیں ہے۔
دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ راستہ تب تک وجود ہی نہیں رکھتا جب تک ہم اسے دیکھ نہ لیں۔ ان کے مطابق کشتی کا کسی کنارے لگنا صرف کپتان کے رجسٹر میں ایک اندراج کی طرح ہے۔ یعنی پانی کا بہاؤ نہیں، بلکہ ہماری معلومات ہی حقیقت کو شکل دیتی ہیں۔
ہم یہ تو سمجھ گئے ہیں کہ دریا کا شور دھند کو کیسے صاف کرتا ہے، لیکن کشتی کا "پتوار" کس کے ہاتھ میں ہے، یہ اب بھی ایک راز ہے۔ اس چھپے ہوئے ملاح کو ڈھونڈنے کے لیے ہمیں اب پانی کی سطح سے بھی گہرا دیکھنا ہو گا۔