تین گھنٹیاں اور روشنی کا باریک دروازہ
خاموش بالکنی میں تین دھاتی گھنٹیاں لٹک رہی تھیں۔ بیچ میں سیدھی پٹی، دونوں طرف دو قریب قریب بند گول چھلے۔ ہوا پٹی کو چھیڑتی تو پاس والے چھلے بھی جواب دیتے، ایک آواز دب جاتی، ایک صاف نکلتی، اور کبھی آواز ذرا دیر سے پہنچتی۔ اسی نقشے پر ایک نہایت باریک تہہ کا خیال کھڑا کیا گیا۔
مشکل یہ تھی کہ بہت تیز روشنی کے کچھ حصوں میں کبھی گزر کم کرنا ہوتا ہے، کبھی صرف اس کی آمد کا وقت ہلکا سا سرکانا۔ ایک ہی ننھے حصے سے یہ دونوں کام لینا آسان نہیں۔ جیسے ایک ہی گھنٹیوں والے فریم سے کبھی آواز دھیمی کرنی ہو، کبھی صرف اس کی ٹک ذرا پیچھے کرنی ہو۔
اس سوچ میں ایک بہت ٹھنڈا رکھا جانے والا مادہ لیا گیا، بی ایس سی سی او۔ شیشے جیسی بنیاد پر بار بار وہی نقش رکھا گیا، ایک سیدھی پٹی اور اس کے پاس دو کٹے ہوئے چھلے۔ پٹی آنے والی لہر کو سیدھا پکڑتی ہے، چھلے پاس ہونے کی وجہ سے ساتھ گونجتے ہیں۔ یوں کچھ حصے دب جاتے ہیں اور ایک حصہ صاف گزر آتا ہے۔
بات یہ ہے کہ نیا پن اسی جوڑی میں ہے۔ کچھ چنی ہوئی لہروں پر یہ نقشہ زیادہ تر آواز کے بٹن جیسا برتاؤ کرتا ہے، گزر بدلتا ہے مگر وقت کم ہلتا ہے۔ پاس ہی کچھ اور لہروں پر یہی چیز وقت کے بٹن جیسی ہو جاتی ہے، لہر کی چوٹی سرک جاتی ہے مگر گزر لگ بھگ قائم رہتا ہے۔ یہ زیادہ تر حسابی جانچ سے دکھایا گیا نقشہ ہے۔
جب یہ تہہ گہری ٹھنڈ میں رہتی ہے تو اندر کی ملی جلی چال تیز اور صاف رہتی ہے، اس لیے اثر بھی نوکیلا رہتا ہے۔ جیسے گھنٹیاں ٹھیک تان میں ہوں۔ گرمی بڑھنے پر وہ ہم آہنگی ڈھیلی پڑتی ہے، پھر وہ صاف کٹاؤ اور صاف گزر دھندلے ہونے لگتے ہیں، آخرکار بہت کم رہ جاتے ہیں۔
پھر گرمی کے بجائے ایک اور چال دیکھی گئی۔ ٹھنڈی تہہ پر نہایت مختصر روشنی کی چمک ڈالی گئی، تو اندر کی ملی جلی چال کچھ دیر کے لیے ٹوٹ گئی۔ جیسے گھنٹیوں کے فریم کو ایک جھٹکا لگے اور ان کی باہمی لے بکھر جائے۔ چمک کم سے زیادہ کی جائے تو بڑے نشان پہلے ایک طرف سرکتے ہیں، پھر پلٹتے ہیں، اور ساتھ مدھم بھی ہوتے جاتے ہیں۔
لیکن ایک ایک چمک کے بعد کہانی الگ ہے۔ درمیانی چمک پر تہہ بہت جلد اپنے پہلے حال کے قریب لوٹ آتی ہے، جیسے بکھری گونج پھر جلد اکٹھی ہو جائے۔ اگر مادہ پہلے ہی زیادہ گرم ہو تو وہ خاص باہمی جوڑ باقی نہیں رہتا، پھر چمک وہی پرانا ہتھیار نہیں بنتی۔ تب فرق صاف دکھتا ہے، ایک ہی باریک نقشہ کبھی طاقت کا کنڈا بنتا ہے، کبھی وقت کا۔