درخت لگانے والوں سے سیکھا گیا کمپیوٹر کا نیا نظام
فرض کریں ایک بڑے پہاڑ پر ہزاروں لوگ درخت لگانے آئے ہیں۔ اگر بیس کیمپ میں بیٹھا ایک ہی شخص سب کو بتائے کہ کہاں کھدائی کرنی ہے، تو ریڈیو پر رش لگ جائے گا اور لوگ انتظار ہی کرتے رہیں گے۔ ہمارے کمپیوٹر نیٹ ورکس بھی ایسے ہی ہیں۔ جب ایک مرکزی سسٹم ہر کام کو خود بانٹنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ تھک جاتا ہے اور سارا نظام سست پڑ جاتا ہے۔
کام تیز کرنے کے لیے ٹیم لیڈروں کو خود خالی جگہیں چننے کا کہا گیا۔ لیکن پھر نیا مسئلہ بن گیا۔ دو لیڈروں نے انجانے میں اپنی ٹیمیں ایک ہی جگہ بھیج دیں۔ وہاں اتنی بھیڑ ہوئی کہ کام کے بجائے مٹی خراب ہو گئی۔ کمپیوٹرز میں بھی جب مشینیں آپس میں بات کیے بغیر خود کام بانٹتی ہیں، تو وہ ایک ہی وقت میں کسی ایک مشین پر سارا بوجھ ڈال کر اسے جام کر دیتی ہیں۔
اس کا حل ایک نگران کی صورت میں نکالا گیا۔ اب کیمپ سے نکلنے سے پہلے لیڈر ریڈیو پر بتاتے ہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اگر نقشے پر دو ٹیمیں ٹکراتی نظر آئیں، تو نگران فوراً ایک کا راستہ بدل دیتا ہے۔ نیا کمپیوٹر سسٹم بھی یہی کرتا ہے۔ کام شروع ہونے سے ذرا پہلے ایک ڈیجیٹل شیلڈ مشینوں کے شیڈول چیک کرتی ہے اور کسی ایک پر بوجھ پڑنے سے پہلے ہی کام کا رخ موڑ دیتی ہے۔
شروع میں پورے پہاڑ کا ایک ہی نگران تھا۔ لیکن لوگ بڑھے تو وہ اکیلا سب کے پلان چیک کرتے کرتے تھک گیا۔ بات یہ ہے کہ اس کا حل پہاڑ کو وادیوں میں بانٹ کر نکالا گیا اور ہر وادی کو اپنا نگران مل گیا۔ وہ آپس میں صرف تب بات کرتے ہیں جب ٹیمیں وادی کی سرحد پر ہوں۔ ٹیکنالوجی میں بھی، اس ڈیجیٹل شیلڈ کو چھوٹے حصوں میں بانٹنے سے نیٹ ورک جتنا بھی بڑا ہو جائے، رفتار کم نہیں ہوتی۔
ان علاقائی نگرانوں کی وجہ سے پہاڑ پر درخت لگانے کا کام ریکارڈ وقت میں پورا ہو گیا اور کہیں بھیڑ نہیں لگی۔ ہمارے جدید ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں بھی یہ نیا طریقہ پروسیسنگ کا وقت آدھا کر دیتا ہے اور بجلی بھی بچاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑے کاموں کے لیے کسی سست مرکزی کنٹرول یا اندھی آزادی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس کام شروع کرنے سے پہلے تھوڑی سی بات چیت ہی کافی ہے۔