دس منزلہ دیوار اور جیبی نوٹ بک
تصور کریں کہ آپ ایک دس منزلہ عمارت کی خالی دیوار کے سامنے کھڑے ہیں جسے پینٹ کرنا ہے۔ پرانے طریقے میں آرٹسٹ کو سیڑھی لگا کر اوپر چڑھنا پڑتا اور ایک باریک برش سے انچ انچ پینٹ کرنا ہوتا۔ یہ کام نہ صرف تھکا دینے والا ہے، بلکہ اس میں غلطی کی گنجائش بھی نہیں ہوتی کیونکہ ایک غلط لکیر مٹانے کے لیے بہت محنت درکار ہوتی ہے۔
آرٹسٹ نے اوپر چڑھنے کے بجائے اپنی جیب سے پوسٹ کارڈ کے برابر ایک چھوٹی سی کاپی نکال لی۔ یہ اس بڑی دیوار کا ایک 'کمپریسڈ' ورژن ہے جو ہتھیلی میں سما جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اتنی بڑی دیوار سے لڑے، آرٹسٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ سارا مشکل کام اس چھوٹی سی کاپی پر کرے گا جہاں تبدیلی لانا چٹکی کا کام ہے۔
اس کاپی پر وہ قلم سے لکیریں نہیں لگا رہا، بلکہ پورا صفحہ پہلے ہی کوئلے کی دھول سے کالا ہے۔ تصویر بنانے کے لیے وہ ایک ربڑ (eraser) سے دھول کو صاف کرتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے شور میں سے صاف آواز نکالنا۔ کاپی چھوٹی ہے، اس لیے اس دھندلے پن کو صاف تصویر میں بدلنے میں گھنٹوں نہیں بلکہ سیکنڈز لگتے ہیں۔
راہ چلتے کسی شخص نے آواز لگائی: "یہاں سمندر پر ڈھلتا ہوا سورج بنا دو!" چونکہ آرٹسٹ چھوٹی کاپی پر کام کر رہا ہے، وہ آسانی سے ربڑ گھما کر لہروں اور سورج کی شکل نکال لیتا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جہاں ہمارے الفاظ اس کچی شکل کو سیدھا راستہ دکھاتے ہیں جبکہ وہ ابھی چھوٹی اور کچی حالت میں ہوتی ہے۔
جیسے ہی وہ چھوٹا سا خاکہ مکمل ہوا، آرٹسٹ نے ایک طاقتور پروجیکٹر چلا دیا۔ اس مشین نے فوراً اس چھوٹی کاپی کی تصویر کو دس منزلہ دیوار پر پھیلا دیا۔ پروجیکٹر نے خود ہی رنگ اور باریکیاں بھر دیں، اور وہ معمولی سا خاکہ بنا ہاتھ لگائے ایک شاندار شاہکار بن گیا۔
اس طریقے نے بڑی چیزیں بنانے کا انداز بدل دیا ہے۔ اب ہمیں بڑی تصویر بنانے کے لیے خود دیو قامت ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں بس اس چھوٹے سے پیٹرن کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے، اور بڑی دیوار خود بخود رنگین ہو جاتی ہے۔