ہوا میں تیرتے کھلاڑی اور زندگی کا چھپا راز
تصور کریں کہ پیراشوٹ جمپرز کی ایک ٹیم جہاز سے چھلانگ لگا رہی ہے۔ وہ سب ایک لمبی رسی سے بندھے ہیں۔ ہمارے پاس ان کے ناموں کی فہرست تو ہے، مگر یہ نہیں معلوم کہ ہوا میں وہ کون سا ڈیزائن بنائیں گے۔ ہمارے جسم میں پروٹین کا معاملہ بھی یہی ہے: ہمیں اجزاء کا پتہ ہے، مگر ان کی پیچیدہ شکل کا نہیں۔
برسوں تک سائنسدان پرانی دھندلی تصویریں دیکھ کر اندازہ لگاتے رہے کہ یہ ٹیم کیسی دکھے گی۔ اگر ٹیم کا انداز نیا ہوتا، تو اندازہ غلط ہو جاتا اور رسی الجھ کر رہ جاتی۔ رسی کی فزکس معلوم تھی، مگر اس کے الجھنے کے اتنے طریقے تھے کہ ایک ایک کر کے حساب لگانا ناممکن تھا۔
نیا طریقہ ایک ماہر تاریخ دان کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ چھلانگ سے پہلے پرانی تمام ٹیموں کے ریکارڈ چھانتا ہے۔ یہ نوٹ کرتا ہے کہ جب بھی جمپر 'الف' ٹیم میں ہو، جمپر 'ی' اکثر اس کے قریب ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کی بنیاد پر ایک نقشہ بنا لیتا ہے کہ کس کو کس کے پاس ہونا چاہیے۔
جب چھلانگ شروع ہوتی ہے، تو یہ سسٹم رسی کے بل کھانے کا حساب نہیں لگاتا۔ اس کے بجائے، یہ جمپرز کو ہوا میں تیرتے الگ الگ ذرات سمجھتا ہے۔ وہ آزادانہ گھومتے ہیں اور بس اس زاویے کی تلاش میں رہتے ہیں جو تاریخ دان کے بنائے ہوئے نقشے پر پورا اترے۔
ہوا میں تیرتے ہوئے وہ ایک کچے سے ڈیزائن میں ڈھل جاتے ہیں۔ سسٹم فوراً اس کوشش کی تصویر لیتا ہے اور انہیں اشارہ دیتا ہے کہ 'ذرا اور قریب ہو جاؤ'۔ وہ اپنی گرفت مضبوط کرتے ہیں اور بار بار یہی عمل دہراتے ہیں یہاں تک کہ شکل بالکل درست ہو جائے۔
نتیجہ ایک ایسا مضبوط ڈھانچا ہے جو حقیقت کے بالکل قریب ہے۔ رسی کی الجھن میں پھنسنے کے بجائے، تاریخ کی مدد سے تیرتے ہوئے ان حصوں نے ہمیں وہ باریک شکل دکھا دی جو زندگی کو چلاتی ہے۔ پچاس سالہ پرانی یہ پہیلی اب حل ہو چکی ہے۔