مصنوعی ذہانت اور اینٹوں کی دیوار
تصور کریں ایک ایسے ماہر مستری کا جو پلک جھپکتے میں پوری عمارت کھڑی کر دیتا ہے۔ وہ ایک ایک اینٹ نہیں لگاتا، بلکہ فیکٹری سے بنی بنائی پوری دیوار اٹھاتا ہے اور اسے اپنی جگہ پر فٹ کر دیتا ہے۔ آج کل کا مصنوعی ذہانت (AI) کا نظام بھی تحریر کو ایسے ہی پڑھتا ہے: وہ ایک ایک حرف جوڑ کر نہیں پڑھتا، بلکہ پورے لفظ کو ایک 'ٹکڑے' کی شکل میں نگل کر تیزی سے جملے مکمل کرتا ہے۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب نقشہ بنانے والا کہے کہ 'اس دیوار کی بائیں طرف سے تیسری اینٹ نکال دو'۔ یہاں مستری کے ہاتھ رک جاتے ہیں۔ چونکہ وہ پوری دیوار کو ایک سیل بند بلاک کی طرح استعمال کرتا ہے، وہ اس کے اندر لگی الگ الگ اینٹوں کو نہ دیکھ سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے۔ اسی لیے AI کو پورے لفظ کا مطلب تو پتا ہوتا ہے، مگر اس کے ہجے یا حروف اس کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔
اس کمزوری کو پرکھنے کے لیے جب مستری سے پوچھا جاتا ہے کہ 'اس دیوار میں کل کتنی اینٹیں ہیں؟' تو وہ گننے کے بجائے دیوار کے سائز سے اندازہ لگاتا ہے اور اکثر غلط جواب دیتا ہے۔ لیکن اگر اسے کہا جائے کہ 'کمرے کی ترتیب بدل دو'، تو وہ فوراً دیواریں آگے پیچھے کر کے نیا نقشہ بنا دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح AI جملے تو بہترین لکھ لیتا ہے، مگر الفاظ کے حروف گننے میں اکثر دھوکا کھا جاتا ہے۔
یہ مشکل تب بڑھ جاتی ہے جب تعمیراتی سامان مختلف ممالک کا ہو۔ چینی طرزِ تعمیر میں ہر بلاک ایک مکمل اکائی ہے، اس لیے وہاں غلطی کم ہوتی ہے۔ لیکن کورین جیسی پیچیدہ زبانوں میں ایک ہی بلاک کے اندر کئی چھوٹے پرزے چھپے ہوتے ہیں۔ یہاں صرف بڑے ٹکڑے جوڑنے والا طریقہ ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ اندرونی بناوٹ کو سمجھے بغیر عمارت کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔
آخر میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ رفتار کے چکر میں باریکی قربان ہو گئی۔ اب ماہرین ایسے نئے اوزار بنا رہے ہیں جو ان بڑی دیواروں کے آر پار دیکھ سکیں، یا ضرورت پڑنے پر واپس ایک ایک اینٹ کو سنبھال سکیں۔ مقصد یہ ہے کہ صرف بھاری بھرکم مطلب ہی ادھر ادھر نہ ہوں، بلکہ اس بنیاد کو بھی سمجھا جائے جس سے یہ سارا ڈھانچہ کھڑا ہے۔