دیوار کی تصویر میں رنگ بدلتے رہے، مگر ربط کہاں گیا؟
سورج نکلنے سے پہلے ٹیم ایک بڑی ٹائلوں والی دیوار دوبارہ رنگ رہی تھی۔ ہر منٹ ساتھ والی دو ٹائلیں رنگ بدلتی تھیں، جیسے لمبی دھاریاں دیوار کے ایک کنارے سے دوسرے تک دوڑانی ہوں۔ پھر کبھی انسپکٹر کسی ٹائل پر مہر لگا دیتا، کبھی صفائی والا اسے سفید کر دیتا۔
یہ دیوار ایک عجیب سی دنیا جیسی ہے جہاں دور دور کے حصے بھی ایک ہی ڈور سے بندھ سکتے ہیں۔ رنگ کی دھاریاں وہی ڈور ہیں۔ انسپکٹر کی مہر لگنا جواب کو وہیں جما دینا ہے، اور صفائی والے کا سفید کرنا اندر سے دھکا دے کر سب کچھ سادہ کرنا۔ سوال ایک ٹائل کا نہیں، پوری دیوار کا ہے۔
ٹیم نے ہر رنگ گننا چھوڑ دیا۔ انہوں نے بس یہ لکیر پکڑ لی کہ کہاں نقش دار حصہ ختم ہوتا ہے اور کہاں سفید شروع۔ پھر ہر منٹ کی لکیر کو اوپر تلے رکھ کر موٹی سی کتاب جیسا ڈھیر بنا لیا۔ بات یہ ہے کہ اب ربط جانچنا رنگوں سے نہیں، ان لکیر کے راستوں کی قیمت تولنے سے ہو گیا۔
اسی لکیر نے چونکا دیا۔ اگر صفائی والا دیوار کے اندر کہیں بھی برابر رفتار سے آتا رہے، تھوڑا سا بھی، تو لمبی دھاری کبھی دیر تک پوری دیوار میں نہیں ٹک سکتی۔ پرانی پرتوں میں جگہ جگہ سفید جزیرے بن جاتے ہیں، اور لکیر بار بار سفید کی طرف کھنچتی رہتی ہے۔
پھر بھی کچھ بنا رہتا ہے۔ صفائی کے داغ عموماً دور دور ہوتے ہیں، اس لیے سفید ٹکڑوں کے بیچ ایک عام سا فاصلہ بن جاتا ہے۔ انسپکٹر کی مہریں لکیر کو سیدھا نہیں کرتیں، وہ اسے کنارے کی لہر کی طرح ٹیڑھا میڑھا کر دیتی ہیں۔ دور کے دو حصوں میں جو بچا کھچا ربط رہتا ہے، وہ اسی ٹیڑھاپن کے حساب سے چلتا ہے۔
پھر انہوں نے صفائی والے کو صرف دیوار کے فریم تک محدود کر دیا۔ اب دیوار جتنی بڑی ہو، اندر کے مقابلے میں فریم پر سفید ہونے والی ٹائلیں نسبتاً کم پڑتی ہیں۔ لکیر کو پورے میدان میں گھومنے کی جگہ ملتی ہے، اس لیے ربط ایک ہی جگہ پر آ کر نہیں رک جاتا، آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے۔
آخر میں ٹیم نے ایک چھوٹا سا نشان ایک ٹائل پر چھپا دیا، اور اسی جیسا ایک نمونہ دیوار سے ہٹ کر محفوظ رکھا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے دیکھا دیوار کتنی دیر تک یہ ثابت کر پاتی ہے کہ نشان اسی نمونے سے ملتا ہے۔ اگر صفائی لمبی لکیروں میں آتی رہے تو حفاظت کا وقت ایک طرح سے گرتا ہے، اور اگر چھینٹوں کی طرح ہو تو دوسری طرح سے۔
شام تک بات صاف تھی۔ ہلکی سی، مسلسل صفائی تصویر کو بس مدھم نہیں کرتی، وہ یہ طے کر دیتی ہے کہ دیوار دور تک ایک ساتھ بندھی رہ ہی سکتی ہے یا نہیں۔ اور وہی لکیر والا طریقہ بتا دیتا ہے کہ کب نشان بچتا ہے، کب اچانک ہاتھ سے نکل جاتا ہے، اور کب دیوار چھوٹے چھوٹے الگ حصوں میں بٹ جاتی ہے۔