ریڈیو بوتھ کے دو سلائیڈر اور ایک نازک سا راز
رات کے ریڈیو بوتھ میں میں نے ہیڈفون لگائے اور دو جڑے ہوئے سلائیڈر ہلکے سے سرکائے۔ دونوں آوازیں ایک ساتھ بدل گئیں، جیسے ایک ہی سانس میں دو سُر۔ یہی بات کوانٹم کمپیوٹنگ میں ہے، ایک چیز بیک وقت کئی حالتوں میں رہ سکتی ہے، اور دو چیزیں ایسے بندھ سکتی ہیں کہ ایک بدلے تو دوسری بھی ساتھ بدل جائے۔
لمبا حصہ چلایا تو چھوٹی خرابیوں نے سر اٹھایا۔ کہیں ہلکی سی بھنبھناہٹ، کہیں تار ہلا تو صاف آواز ٹوٹ گئی۔ کچھ مائیک سیدھے نہیں ملتے، بیچ میں چکر لگانا پڑتا ہے۔ کوانٹم مشینوں میں بھی وقت کے ساتھ وہ نازک حالت بکھر جاتی ہے، اور ہر قدم کبھی کبھی ذرا غلط بیٹھ جاتا ہے۔
میں نے پورا کنسرٹ ایک ہی بار میں ٹھیک کرنے کی ضد چھوڑ دی۔ چھوٹا سا جملہ چلایا، سنا، سلائیڈر ذرا سا بدلا، پھر لیپ ٹاپ نے اگلا چھوٹا بدلاؤ بتایا۔ آج کے کئی کوانٹم کام بھی ایسے ہی ہوتے ہیں، عام کمپیوٹر راستہ بتاتا ہے اور کوانٹم ڈیوائس چھوٹے چھوٹے چکر میں آزماتی ہے۔
نیا رضاکار آیا تو کنٹرول دیکھ کر رک گیا۔ ہر مکسَر کے بٹن الگ ناموں سے لکھے تھے، راستے سمجھنا مشکل، اور فیڈبیک سے بچنے کی ہدایات پرچیوں میں بکھری تھیں۔ کوانٹم میں بھی مسئلہ صرف مشین نہیں، اسے چلانے والا سافٹ ویئر ابھی ایک جیسا اور آسان نہیں، غلطی پکڑنے اور وقت ٹھیک بٹھانے کے اوزار کمزور ہیں۔
گانے کے بیچ میں مینیجر نے ٹرانسمٹر والی الماری کی چابی گھمائی اور لمحہ بھر رکا۔ پرانا تالا عام چور سے تو بچا لیتا ہے، مگر سب کو ڈر ہے کہ آنے والا کوئی طاقتور اوزار اسے جلد کھول دے گا۔ اسی لیے لوگ ایسے نئے تالے بنا رہے ہیں جو کوانٹم سے بھی نہ ٹوٹیں، اور کچھ لوگ روشنی کے اشاروں سے ایک خفیہ چابی بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں جھانکنے سے نشان پڑ جاتا ہے۔
مہمان بینڈ نے پوچھا، "کیا یہ سیٹ اپ واقعی اسٹوڈیو سے بہتر ہے، یا بس کرتب؟" میں ایک چمکدار سا لمحہ دکھا سکتا تھا، مگر اصل بات روز کے پروگرام ہیں جو ہر بار ٹھیک چلیں۔ کوانٹم میں بھی ایک بار کا کمال کافی نہیں، کام کا فائدہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اور بڑھانا صرف چینل بڑھانا نہیں، زیادہ تاریں، زیادہ حفاظت، زیادہ ٹھنڈک اور بہت سا سہارا چاہیے۔
سحر کے قریب میں نے کیبلوں پر لیبل لگائے، ایک صاف سی فہرست لکھی، اور اگلے حصے سے پہلے ایک چھوٹا سا چیک رکھ دیا۔ بوتھ میں کوئی جادو نہیں آیا، بس غلطی کے لیے کم جگہ رہ گئی۔ کوانٹم کی راہ بھی ایسی ہی لگتی ہے، ایک بڑی چھلانگ نہیں، نازک نظام کو آہستہ آہستہ قابلِ بھروسا بنانا۔