کائنات کی شکل اور چھپے ہوئے راستے
ایک بہت بڑی وادی ہے جو کناروں سے بالکل سیدھے میدان میں بدلتی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس کے بیچ ایک ہموار اور گول راستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وادی ہماری بڑی کائنات جیسی ہے، اور راستہ اس کے اندر کی چھوٹی چیزوں جیسا۔ اصول یہ ہے کہ بڑی جگہ کی ساخت ہی طے کرتی ہے کہ اس کے اندر کیا بن سکتا ہے۔
پہلے یہ تو معلوم تھا کہ اگر پوری وادی پیالے کی طرح گول ہو، تو اس میں بالکل ہموار راستہ بنانا ناممکن ہے۔ لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اگر وادی صرف دور کناروں پر جا کر سیدھی ہو جائے تو کیا ہوگا۔ یہ ایک معمہ تھا کہ دور دراز کے کنارے بیچ والے راستے پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔
اب ایک نئی دریافت نے اس الجھن کو سلجھا دیا ہے۔ یہ پتا چلا ہے کہ یہ وادی باہر کی طرف کس تیزی سے پھیلتی ہے، اس کا سیدھا تعلق راستے کے کھچاؤ اور موڑ سے ہے۔ یعنی دور کے کناروں کا پھیلاؤ ایک خاص دباؤ ڈال کر اندر کے راستے کی شکل طے کرتا ہے۔
اس بات کو پرکھنے کے لیے اندر والے راستے سے دور کناروں تک جاتی ہوئی لکیروں کو دیکھا گیا۔ چونکہ وادی مسلسل پھیلتی اور سیدھی ہوتی ہے، اس لیے یہ لکیریں دور ہوتی جاتی ہیں۔ یہ باہری کھچاؤ اتنا طاقتور ہے کہ وہ اندر والے گول راستے کو ٹیڑھا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔
بات یہ ہے کہ ایک ایسی جگہ جو مسلسل پھیل رہی ہو اور کناروں سے سیدھی ہو رہی ہو، وہاں ایک ہموار اور گول راستہ بن ہی نہیں سکتا۔ اگر ایسا کوئی راستہ مل جائے، تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ جگہ پھیل ہی نہیں رہی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ دور کے نہ نظر آنے والے کنارے ہمارے آس پاس کی حقیقت کو کنٹرول کرتے ہیں۔