بھول بھلیاں مشکل کرو تو سیکھنے والا تیز ہو جاتا ہے
سوچو کسی کا کام ہے بھول بھلیاں بنانا۔ سادہ بھول بھلیاں جن سے لوگ منٹ بھر میں نکل جائیں۔ ایک دن اس نے نئی بھول بھلیاں بنانے کی بجائے پرانی والی ہی مشکل کر دیں۔ کہیں ایسا راستہ ڈالا جو شارٹ کٹ لگے لیکن واپس لے آئے۔ کہیں بند گلی ایسے سجائی جیسے باہر نکلنے کا دروازہ ہو۔ بالکل یہی کام ایک ٹیم نے کمپیوٹر کوڈ لکھنے والے AI کو سکھانے کے لیے کیا۔
کوڈ لکھنے والے AI پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے بہت سارا پروگرامنگ کا مواد پڑھا ہوا تھا اور سیدھے سادے کام کر لیتے تھے۔ لیکن پھر ایک حد آ جاتی تھی، بالکل ویسے جیسے کوئی صرف آسان بھول بھلیاں حل کرتا رہے تو ایک وقت کے بعد کچھ نیا نہیں سیکھتا۔ مسئلہ مشق کی مقدار نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مشق کافی مشکل نہیں تھی۔
ٹیم نے وہی بھول بھلیاں والی ترکیب کوڈنگ کے سوالات پر آزمائی۔ کسی سوال میں نئی پابندی ڈال دی، جیسے بھول بھلیاں میں کہو کہ صرف تین بار بائیں مڑ سکتے ہو۔ کسی میں جانی پہچانی شرط بدل کر انوکھی رکھ دی۔ کسی میں فیصلوں کے مراحل بڑھا دیے۔ سب سے چالاک چال یہ تھی کہ ایک غلط مثال دے دی جو صحیح لگے، بالکل ویسے جیسے بند گلی کو باہر نکلنے کا دروازہ بنا کر دکھاؤ۔
شروع میں قریب بیس ہزار سادے سوالات تھے۔ ہر دور میں انہیں مشکل تر بنایا اور سب ورژن ملا کر AI کو سکھائے۔ تین دور تک نتائج بہتر ہوتے گئے، کل ملا کر اندازاً اٹھہتر ہزار سوالات بنے۔ چوتھے دور میں فائدے کی بجائے نقصان ہونے لگا۔ بھول بھلیاں اتنی الجھا دو کہ راستہ ڈھونڈنا سکھانے کی بجائے بس سر درد ہو، تو فائدہ ختم۔ ٹیم نے وہیں روک لیا۔
اصل امتحان یہ تھا۔ ایک AI کو بیس ہزار آسان سوالات پر سکھایا، دوسرے کو اتنے ہی مشکل سوالات پر۔ مشق کی مقدار برابر، لیکن مشکل والے AI نے ایک مشہور کوڈنگ ٹیسٹ میں دس فیصد سے زیادہ بہتر سکور کیا۔ بات یہ ہے کہ زیادہ مشق نہیں، مشکل مشق نے فرق ڈالا۔ جیسے مشکل بھول بھلیاں حل کرنے والا نئی بھول بھلیاں میں بھی تیز نکلتا ہے۔
ایک فکر یہ تھی کہ شاید مشکل سوالات ٹیسٹ کے سوالات سے ملتے جلتے ہو گئے ہوں اور AI نے جواب رٹ لیے ہوں۔ لیکن جب جانچا تو ہر دور کے بعد سوالات ٹیسٹ سے اور مختلف ہوتے گئے۔ AI رٹا نہیں لگا رہا تھا، وہ واقعی نئے مسائل پر سوچنے کی صلاحیت سیکھ رہا تھا۔
اس طرح بننے والے AI نے اپنے وقت کے سب سے اچھے کھلے کوڈ لکھنے والے نظاموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کا چھوٹا ورژن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مشہور نظاموں سے آگے نکل گیا۔ نہ نیا ڈیٹا جمع کیا، نہ طالب علم بدلا، نہ کلاس روم بدلا۔ صرف ہوم ورک کا معیار بدلا۔ مشکل مشق نے وہ کام کیا جو ڈھیروں آسان مشق نہیں کر سکی۔