لائبریری کے اسٹیکر اور وہ غلطی جو چپکے سے پھیلتی ہے
لائبریری کے پچھلے کمرے میں میز پر نئی کتابیں ڈھیر تھیں اور رنگین اسٹیکر کے رول پڑے تھے۔ ہم رضاکار ہر کتاب کے چند صفحے دیکھ کر ایک اسٹیکر لگاتے: گھر والوں کے لیے ٹھیک، یا احتیاط۔ پھر لائبریرین سب سے زیادہ لگنے والا اسٹیکر آخری فیصلہ مان لیتا۔ بات یہ ہے کہ کئی چھوٹے فیصلے مل کر آگے کی سفارشوں کا رخ طے کرتے ہیں۔
لائبریرین کو لگتا تھا کہ زیادہ لوگوں کی رائے سے ذاتی عادتیں دھل جائیں گی۔ لیکن اگر کچھ رضاکار کسی خاص طرح کے لکھنے والے یا کرداروں والی کہانیوں پر ہمیشہ سخت اسٹیکر لگائیں، تو یہ اتفاقی غلطی نہیں رہتی۔ جب ایسے جھکے ہوئے فیصلے اکٹھے ہوں، تو “اکثریت” بھی پکی ناانصافی بن سکتی ہے۔
یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا جھکاؤ واقعی ہوتا ہے یا نہیں، دو بڑے ڈھیروں کے فیصلے دیکھے گئے جہاں صحیح جواب پہلے سے معلوم تھا۔ ایک میں انصاف والے واقعات کی چھوٹی تفصیلیں تھیں، دوسرے میں آن لائن تبصروں کی بدتمیزی۔ اس سے ہر شخص کو دو طرح سے پرکھا جا سکا: وہ کتنی بار درست تھا، اور کیا اس کی غلطی کسی ایک گروہ پر زیادہ پڑتی تھی۔
جو بات چونکانے والی نکلی وہ یہ تھی کہ جھکاؤ صرف لاپرواہ لوگوں میں نہیں تھا۔ کئی لوگ مجموعی طور پر ٹھیک جواب دیتے تھے، پھر بھی کچھ گروہوں کے ساتھ ان کا ہاتھ بھاری رہتا تھا۔ یعنی “درستگی” اور “انصاف” ہمیشہ ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔ لائبریری میں وہی رضاکار جو اکثر صحیح اسٹیکر چنتا ہے، پھر بھی ایک طرح کے مصنف کو بار بار مشکوک ٹھہرا دیتا ہے۔
پھر اکثریت والے فیصلے کی کمزوری سامنے آئی۔ کئی کتابوں پر اسٹیکر لگانے والوں میں جھکے ہوئے رضاکار تعداد میں زیادہ نکلے، تو آخری اسٹیکر صحیح والے کے الٹ بھی جا سکتا تھا۔ اگر لائبریری ایسے رضاکاروں کو ہٹا دے تو بھی مسئلہ بن جاتا ہے: درستگی گر سکتی ہے، اور بہت سی کتابیں اتنے کم اسٹیکر پاتی ہیں کہ فہرست ہی ادھوری رہ جاتی ہے۔
کچھ اور چالاک طریقوں سے ووٹ ملانے کی کوشش بھی کی گئی، مگر اکثر تھوڑا ہی فرق پڑا، اور جھکاؤ ہر بار ختم نہ ہوا۔ جب انہی آخری اسٹیکروں پر کمپیوٹر سے آگے کی پیش گوئیاں بنیں، تو نتیجہ کم درست اور گروہوں کے بیچ زیادہ غیر برابر ہو گیا۔ لائبریری کے لیے سبق سیدھا ہے: انصاف آخر میں نہیں آتا، اسٹیکر لگاتے وقت ہی راستہ مڑ جاتا ہے۔