اسٹیج کی ایک لالٹین نے چھپی ہوئی چال دکھا دی
پردے کے اوپر لکڑی کے راستے تلے گرد تیر رہی تھی۔ ایک کارکن نے لالٹین کو ایسے فریم پر سنبھالا جس میں ایک کھینچنے والی تار اور تین گھومنے والے حلقے تھے۔ یہ بس سمجھنے کی مثال ہے، اسی سے دیکھو کہ ایک ہی چیز کبھی لکیر جیسی، کبھی چادر جیسی، کبھی بھری ہوئی جگہ جیسی چال دکھا سکتی ہے۔
عام نقشہ بندی فرش پر چلتی راہ کو خوب پکڑ لیتی ہے، یا ہوا میں تنی ہوئی ایک سطح کو۔ لیکن اس فریم میں ہر حرکت اپنے ساتھ رخ بھی اٹھائے پھرتی ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ ایک، دو یا تین قابو سے بنی ہر چال کو ایک ہی بڑے گھر میں جگہ دی گئی، اور فریم نے چلتے چلتے اپنا سیدھا رخ خود بنایا۔
جب ہر رخ کو ایک ہی پیمانے پر رکھا گیا تو کارکن لالٹین کے ہلنے سے فرق پڑھ سکتا تھا۔ اگر بدلاؤ اسی رخ کے ساتھ آئے تو راستہ مڑتا ہے۔ اگر بدلاؤ دو الگ قابو کے ملنے سے نکلے تو فریم بل کھاتا ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں مڑنا اور بل کھانا صرف مقدار نہیں، سمت کے ساتھ جڑی ہوئی بات ہے۔
پھر بات صرف حرکت تک نہیں رہی، حساب رکھنے کا ڈھنگ بھی بنا۔ دیکھا گیا کہ اس چار حصوں والی مقدار میں ہر رخ سے کیا بدلتا ہے۔ ایک خاص توازن ہو تو اس کے سیدھے حصے میں نوکیلے ابھار نہیں بنتے، اور یہی بدلاؤ بعد میں عام ہندسے والی ترتیب سے سیدھا مل جاتا ہے۔
آخر میں نظر خود فریم پر گئی۔ لالٹین آگے بڑھتی ہے تو تار اور حلقوں کے رخ بھی ساتھ ساتھ گھومتے ہیں، اور اس گھومنے کو چھوٹے نوٹوں میں باندھا جا سکتا ہے جو عام جدول سے مل جاتے ہیں۔ پہلے بات بس ایک کھینچاؤ تک سمٹتی تھی، اب لکیر، سطح اور بھرے ہوئے رخ کی شروعات ایک ہی زبان میں ساتھ دکھنے لگتی ہے۔