چھت کے پاس گھنٹیوں کی ریل نے ایک چھوٹی تال کیوں یاد رکھی؟
تھیٹر کی چھت کے پاس میں نے دھاتی چھنکاروں کی لمبی ریل کو ہلکا سا ٹھونکا۔ عام طور پر آواز پھیل کر گڈمڈ ہو جاتی ہے۔ لیکن دو ساتھ والی چھنکاروں کی ایک تال صاف واپس لوٹ آئی، جیسے ریل نے اسے پکڑ لیا ہو۔
یہ منظر مجھے ایک اور جگہ کی یاد دلاتا ہے، بہت چھوٹے ذرّوں کی ایک لمبی زنجیر۔ وہاں بھی خیال یہی ہوتا ہے کہ توانائی اندر ہی اندر پھیلتی ہے، سب کچھ مل جاتا ہے، اور شروعات والی ترتیب جلدی پہچانی نہیں جاتی۔
میں نے زور سے نہیں، ٹھیک جوڑی سے کام لیا۔ دو پڑوسی چھنکاروں کو باری باری چھیڑا تو جو لرزش جوڑی توڑ کر بھاگنی تھی، پاس والی الٹی ترتیب کی لرزش نے اسے وہیں کاٹ دیا۔ اسی طرح اس زنجیر میں ایک خاص جوڑا اس لیے ٹکا رہتا ہے کہ ٹوٹنے کے دو راستے ایک دوسرے کو ختم کر دیتے ہیں۔
پھر میں نے وہی جوڑی والا اشارہ بار بار دہرایا۔ ریل میں آوازیں ایسے لگیں جیسے برابر فاصلے والے سُر کی سیڑھی بن رہی ہو۔ زنجیر میں بھی اسی ایک حرکت کو دہرانے سے توانائی کی حالتیں برابر فاصلے پر قطار بناتی ہیں، جیسے شور میں چھپی سیدھی سیڑھی۔
جب میں نے ایسا ٹَیپ چنا جو زیادہ تر اسی سیڑھی کو جگاتا تھا تو آواز دھند نہیں بنی۔ وہ سمٹتی، پھر صاف لوٹ آتی، اور یہ چکر چلتا رہا کیونکہ ہر پائیدان کا فاصلہ برابر تھا۔ زنجیر میں بھی کچھ خاص شروعاتی ترتیبیں قریب قریب اپنی پہلی شکل میں واپس آتی ہیں۔
زیادہ تر دوسری ٹھکیں پھر بھی عام ہی رہیں، سب کچھ پھیل کر مل گیا۔ اور اگر ریل میں کچھ ایسے اضافی جوڑ لگیں جو اسی بناوٹ کو نہ توڑیں تو یہ خاص جوڑی اکثر بچ جاتی ہے، کیونکہ بچاؤ بہت مقامی اور ٹھیک ٹھیک ہوتا ہے۔ لیکن بےترتیب تبدیلیوں میں یہ تال کمزور بھی پڑ سکتی ہے۔
میں نے ریل کو بند کیا تو دھیان آیا، ہجوم میں بھی کبھی کبھی چند قدم ایک جیسے رہ جاتے ہیں۔ یا تو کچھ جوڑے ٹوٹنے نہیں دیتے، یا کچھ حرکتوں کے لیے ایک الگ راستہ بن جاتا ہے جہاں باقی شور داخل نہیں ہو پاتا۔ بات یہ ہے کہ یہ تالیں خاص ہیں، عام نہیں، اور انہیں جان بوجھ کر پکڑنا ابھی آسان نہیں۔