ریڈیو بوتھ میں ہِس، پاپ، اور ہر لمحے کی نئی خبر
رات کے سناٹے میں چھوٹے سے ریڈیو بوتھ میں میں اکیلا بیٹھا تھا۔ ایک ہاتھ فَیڈر پر تھا، دوسرا ہیڈفون کے کپ پر۔ دھن صاف چلتی، پھر ہلکی سی ہِس رینگ آتی، اور کبھی اچانک پاپ سے لائٹ جھپک جاتی۔ میں نے سننا لمحہ لمحہ شروع کیا۔
مسئلہ شور کا ہونا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ شور رکتا ہی نہیں۔ گلوکار خاموش بھی ہو تو باہر کی ہوا اور تاریں آواز کو ہلاتی رہتی ہیں، اور جو آواز باہر جاتی ہے وہ کچھ سراغ بھی لے جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک ہی سادہ قاعدہ چاہیے جو اوسط بھی بتائے اور قریب سے سننے پر بدلتی خبر بھی۔
میں نے باہر کی دنیا کو ایک چلتی بیلٹ کی طرح سوچا: ہر لمحے ایک نیا، چھوٹا سا ٹکڑا بوتھ کو چھوتا ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے گزر جاتا ہے۔ نیا ٹکڑا پچھلے کو یاد نہیں رکھتا۔ یہی “یاد نہ رکھنے” والی بات ہے۔ مطلب یہ کہ ہر تازہ لمحے پر ایک ہی قاعدے سے اگلا اندازہ بنایا جا سکتا ہے۔
پھر سننے کے دو طریقے نکلے۔ ایک میں بس کلک سنائی دیتا ہے یا نہیں، تو میرا اندازہ جھٹکے سے بدلتا ہے۔ دوسرے میں میٹر کی سوئی ہر وقت ہلتی رہتی ہے، تو اندازہ آہستہ آہستہ سرکتا ہے۔ نئی بات یہ تھی کہ دونوں کے لیے الگ مگر آپس میں میل کھاتے اصول لکھے جا سکتے ہیں، اور سب ریکارڈ ملا دو تو وہی ہموار اوسط والا اصول واپس آ جاتا ہے۔
اصل بوتھ میں سننا بھی ادھورا ہوتا ہے۔ کبھی ہیڈفون ٹھیک نہیں بیٹھتا، کبھی کچھ آواز کمرے میں نکل جاتی ہے، تو خبر پوری نہیں ملتی مگر اثر پھر بھی پڑتا ہے۔ حساب کو آسان رکھنے کے لیے میں نے ایک ایسی چلتی پرچی رکھی جو ہر لمحے لازمی نہیں کہ “پورا” بنے۔ اسی پرچی کا کل وزن بتا دیتا ہے کہ میرا اندازہ سنی ہوئی چیز سے کتنا میل کھاتا ہے۔
پھر ہاتھ نوب پر جاتا ہے، یہی فیڈبیک ہے۔ کلک والے سننے میں میں کلک آتے ہی ایک طے شدہ کٹ لگا سکتا ہوں، جیسے فوری مِیوٹ۔ سوئی والے سننے میں میں مسلسل ٹھیک کرتا ہوں، لیکن تیز تیز درستگی خود ہِس بھی بڑھا سکتی ہے، جیسے کانپتی سوئی پر زیادہ زور۔ بات صاف تھی: جتنی کم خبر ملے، اتنا ہی زیادہ شور سہنا پڑتا ہے۔
آخر میں مجھے یہ سادہ بات جمی: اسی ایک بہتی بیلٹ کے لمحے کبھی دھند بن جاتے ہیں، کبھی سراغ، کبھی قابو کا ہینڈل۔ اگر میں نظر انداز کروں تو آواز پھیلتی جاتی ہے۔ اگر میں سنوں تو پھیلاؤ گھٹ سکتا ہے۔ اگر میں سن کر فوراً ہاتھ بھی چلاؤں تو میں اپنی “نجی” سنائی کے قریب “سب کے لیے” صاف نشریات رکھ سکتا ہوں۔