ایک ریہرسل، ایک فیصلہ: ساز زیادہ یا مشق زیادہ؟
کمیونٹی ہال میں کنڈکٹر گھڑی دیکھتا رہا۔ایک ہی ریہرسل بچی تھی اور اسٹیج پہلے ہی بھرا تھا۔دل کہتا تھا چند سازندے اور بلا لیں، مگر پھر سب کو ایک ساتھ بجانے کی مشق کم رہ جاتی۔
کافی عرصہ لوگ زبان لکھنے والی مشینوں میں یہی کرتے رہے: اندر کے پرزے بڑھا دو، یعنی مشین کو بڑا کر دو۔لیکن اسے پڑھانے کا وقت تقریباً وہی رہتا۔آرکسٹرا بڑا لگتا، مگر اشارے دیر سے آتے اور آواز جمتی نہیں۔
پھر کچھ بنانے والوں نے ریہرسل کے وقت کو مقدس سمجھا۔اسی وقت میں وہ دو باتیں تولتے رہے: اسٹیج پر کتنے سازندے ہوں، اور کتنے صفحے بار بار بجائے جائیں۔یہاں ریہرسل کا وقت وہی محدود حساب تھا، سازندے مشین کا سائز، اور صفحے وہ لکھائی جو اسے پڑھائی جاتی ہے۔
بار بار ایک ہی نقشہ نکلا۔ایک ہی وقت میں نہ سب سے بڑا آرکسٹرا جیتتا ہے، نہ سب سے لمبی مشق۔درمیان میں ایک میٹھا مقام ہوتا ہے: کم سازندے ہوں تو آواز پتلی، بہت زیادہ ہوں تو تال میل نہیں بنتا۔سبق یہ کہ سائز اور مشق میں توازن رکھو۔
ایک اور بات نے چونکایا۔ریہرسل کا پلان اس کی لمبائی کے مطابق ہونا چاہیے۔اگر پلان لمبی ریہرسل سوچ کر بنا ہو اور وقت کم نکلے، تو آخر میں آرکسٹرا ابھی زور لگا رہا ہوتا ہے، صفائی نہیں آتی۔مشین کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے، وقت وہی ہو تب بھی نتیجہ گر جاتا ہے۔
پھر مقابلہ ہوا۔اتنے ہی محدود وقت میں انہوں نے پہلے والی بہت بڑی مشین کے بجائے ایک چھوٹی مشین بنائی، اور اسے کہیں زیادہ پڑھایا۔کم سازندے، زیادہ صفحے۔کئی طرح کے کاموں میں یہ بہتر نکلی، اور بعد میں چلانا بھی سستا پڑا۔لیکن ایک بات باقی رہی: صرف بہتر مشق سے غلط یا تکلیف دہ باتیں خود بخود ختم نہیں ہوتیں۔