جب ہاتھ نہیں، چیز خود بتاتی ہے کہ ٹکر کہاں ہوئی
سائیکل مرمت کی دکان پر مکینک نے بریک سیٹ کی۔ باہر سے سب ٹھیک، مگر پہیا گھومتے ہی ہلکی سی شش کی آواز آتی اور ٹریفک میں گم ہو جاتی۔ اس نے فریم پر ایک چھوٹا سا کانٹیکٹ مائیک ٹیپ کیا۔ یوں جیسے کان سیدھا چیز پر رکھ دیا ہو۔
روبوٹ کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ کیمرہ ہاتھ کی جگہ دکھا دیتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ چیز ابھی چھو رہی ہے یا پھسل رہی ہے، یا اندر کچھ ہے بھی یا نہیں۔ جب چھونا چھپا ہوا ہو، چیز کے اندر سے آنے والی کپکپاہٹ وہ بتا دیتی ہے جو آنکھ نہیں دیکھتی۔
ManiWAV والوں نے روبوٹ کو یہی “ٹیپ والا کان” دینے کا سوچا، پہلے بغیر روبوٹ کے۔ انہوں نے پکڑنے والی انگلی جیسا ایک ہینڈ ٹول بنایا، اس کے نیچے رگڑ والی ٹیپ کے اندر کانٹیکٹ مائیک لگایا، اور اسے ایکشن کیمرے کے مائیک پورٹ میں لگا دیا۔ ویڈیو اور کپکپاہٹ ایک ہی فائل میں ساتھ ساتھ محفوظ ہو گئی۔
پھر وہی انگلی روبوٹ بازو پر لگائی تو روبوٹ کے موٹر کی اپنی آواز بھی ساتھ آ گئی، جیسے کام کرتے ہوئے پاس میں شور کرنے والی مشین چل رہی ہو۔ روبوٹ کبھی کبھی غیر متوقع ٹھوکر بھی مار دیتا ہے۔ اوپر سے آواز اور ویڈیو میں ہلکی سی دیر تھی، اسے ٹھیک کرنا پڑا تاکہ روبوٹ دیر سے ردعمل نہ دے۔
انہوں نے مشق میں جان بوجھ کر شور ملایا، اور موٹر کی ریکارڈ کی ہوئی آوازیں بھی، تاکہ روبوٹ صاف خاموش آوازوں کا عادی نہ ہو۔ پھر آواز کو صرف اونچا نیچا نہیں رکھا، اسے ایسی تصویری شکل دی جس میں وقت کے ساتھ لہروں کے نشان بنتے ہیں، تاکہ اہم رگڑ اور ٹک کی پہچان ہو سکے۔ پھر ویڈیو اور یہ “کان” مل کر ہاتھ کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں چلاتے ہیں۔
فرق ویسا ہی نکلا جیسا سائیکل کے بریک میں تھا۔ پین میں بیگل پلٹتے وقت اصل بات یہ ہے کہ اسپاتولا کب اندر گئی اور کب پھسل رہی ہے، یہ کپکپاہٹ بتا دیتی ہے۔ وائٹ بورڈ پونچھتے وقت دباؤ کم ہو تو آواز بدلتی ہے۔ کپ میں کچھ ہو تو لوگ ہلاتے ہیں، اندر کی کپکپاہٹ راز کھول دیتی ہے۔ ویلکرو میں شکل ایک جیسی، مگر رگڑ کی آواز الگ۔
نیا کمال کوئی مہنگا نیا ہاتھ نہیں، بس سستا سا اضافی کان ہے اور سکھانے کا سیدھا طریقہ: باہر عام چیزوں پر ہاتھ چلا کر ویڈیو کے ساتھ وہی کپکپاہٹ بھی قید کر لو، پھر روبوٹ کے اپنے شور کے بیچ اسے سننا سکھا دو۔ ہر کام میں نہیں چلے گا، کبھی اشارہ بہت ہلکا ہوتا ہے۔ مگر جب کان سیدھا چیز پر ہو، بہت سی الجھنیں اچانک صاف ہو جاتی ہیں۔