ریہرسل میں وہ آدھی ضرب کیوں چبھ گئی؟
گرم ہال میں کرسیوں کی چرچراہٹ تھی، ورق پلٹ رہے تھے۔ اچانک کنڈکٹر نے ہاتھ اٹھا کر سب روک دیا۔ آواز اونچی نہیں تھی، مسئلہ یہ تھا کہ تار والے ساز آدھی ضرب پہلے آ گئے تھے۔ سب نے ایک ساتھ وہ کھٹک محسوس کی۔
لوگ اکثر کہتے رہے کہ دماغ کے دو حصے الٹے کام کرتے ہیں: باہر والا حصہ خود سیکھتا ہے، پیچھے والا حصہ درست جواب تھماتا ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ وہ پچھلا حصہ جواب نہیں دیتا۔ وہ بس شکایت بھیجتا ہے کہ اندازہ غلط نکلا۔
کنڈکٹر نے وہی ٹکڑا دوبارہ چلایا، مگر اس بار ریہرسل کی تہیں بن گئیں۔ سیکشن لیڈر دھن کی بڑی شکل سنتے رہے، اور ہر سازندہ اگلے چند سروں پر ٹکا رہا۔ جو بات توقع کے مطابق ہو، اس پر کوئی وقت نہیں لگاتا۔ غیر متوقع چیز ہی خبر بنتی ہے۔
ایک گلوکار آیا تو کام بدل گیا۔ اب لفظ بھی پکڑنے تھے، صرف سُر نہیں۔ کچھ لوگ اگلا لفظ منہ میں ہی محسوس کر لیتے تھے، مگر کنڈکٹر زیادہ اس بات پر تھا کہ گیت کس رخ جا رہا ہے۔ یہی اوپر والی توقع پورے بجانے کا انداز بدل دیتی ہے۔
پھر طبلہ اور ڈرم والوں نے ٹائمنگ کی سخت مشق کرائی۔ ذرا سا آگے پیچھے، فوراً پکڑ میں آ جاتا۔ یہ اس حصے جیسا ہے جو بہت تیز درستگی کے لیے بنا ہے۔ ڈھانچہ الگ ہو سکتا ہے، مگر چکر وہی رہتا ہے: اندازہ، چوک، پھر ٹھیک کرنا۔
ایک مشکل موڑ پر سننا کم اور کرنا زیادہ ہو گیا۔ پھر بھی اندازے نہیں رکے۔ ہر سیکشن اپنے اگلے سُر، دوسرے کی ممکنہ چال، اور اگلے اشارے کا وقت ذہن میں رکھ کر بجا رہا تھا۔ یہی سیکھا ہوا اندازہ کبھی سمجھنے میں لگتا ہے، کبھی بناتے وقت راستہ دکھاتا ہے۔
تماشائی آنے سے پہلے کنڈکٹر نے اچانک دہرائی ہوئی لائن کاٹ دی اور نیا اختتام رکھ دیا۔ سب نے فوراً طے کیا کہ ابھی کس کی آواز اہم ہے، اور مشکل جگہ پر ماہر حصے پر بھروسا کیا۔ تب فرق صاف لگا: جواب بانٹنے والا کوئی استاد نہیں تھا، بس غلطی کی کھٹک تھی جو سب کو ایک ساتھ سیدھا کر رہی تھی۔