مجسمہ نہیں، ایک رقص
میدان میں کچھ لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ستارے کی شکل میں گھوم رہے ہیں۔ ہمارے خلیوں میں موجود پروٹین بھی بالکل ایسے ہی کام کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ پروٹین کسی مجسمے کی طرح ٹھوس ہوتے ہیں، لیکن وہ مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ لوگ قدم بدلتے ہیں، گرفت مضبوط کرتے ہیں، مگر دور سے ستارے کی شکل بالکل برقرار رہتی ہے۔
یہ توازن ایک مسلسل کھینچ تان کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے، جو شکل کو قائم رکھتی ہے۔ دوسری طرف آزادی سے بکھر جانے کی فطری چاہت ہے، جو چاہتی ہے کہ یہ زنجیر ٹوٹے اور سب اپنی مرضی سے بے ترتیب انداز میں بکھر جائیں۔ پروٹین کے اندر بھی یہی کشمکش چلتی رہتی ہے۔
اس کھینچ تان میں جیت کس کی ہوگی، اس کا فیصلہ اردگرد کی گرمی کرتی ہے، بالکل جیسے موسیقی کی رفتار۔ جب گرمی کم ہوتی ہے، تو ہاتھوں کی گرفت جیت جاتی ہے اور ستارے کی شکل قائم رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی گرمی بڑھتی ہے اور موسیقی تیز ہوتی ہے، بکھرنے کی چاہت حاوی ہو جاتی ہے اور لوگ ہاتھ چھوڑ کر ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں۔
برسوں تک لوگ یہ سمجھنے میں الجھے رہے کہ پروٹین کب بکھرے گا، کیونکہ وہ ہر ایک شخص کے قدموں پر نظر رکھ رہے تھے۔ اصل کامیابی تب ملی جب انہوں نے بالکونی سے پورے ہجوم کو دیکھنا شروع کیا۔ بات یہ ہے کہ ہر چھوٹی حرکت کو گننے کی ضرورت نہیں، صرف ہجوم کی مجموعی توانائی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ستارہ قائم رہے گا یا ٹوٹ جائے گا۔
اس نئی سوچ نے ثابت کیا کہ زندگی کا نظام کسی ٹھوس مجسمے پر نہیں، بلکہ مسلسل حرکت پر چلتا ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ گرمی اور توانائی کس طرح جڑے رہنے یا بکھرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ قدرت میں اصل مضبوطی ایک جگہ رکے رہنے میں نہیں، بلکہ ایک چلتے پھرتے ہجوم میں صحیح تال میل تلاش کرنے میں ہے۔