ونچ کا سادہ اصول، اور کائنات کی ایک چھپی شرط
صبح کی دھند میں لٹکتا پیدل پل ہلکا سا ہل رہا تھا۔ مرمت والا ہاتھ والی ونچ گھما کر دو بڑے تاروں میں بوجھ بانٹ رہا تھا۔ اصول یہ تھا کہ جس تار پر زیادہ زور ہو، اسی طرف تھوڑا اور کھینچ دو۔ پھر ایک تار ڈھیلا پڑا، مگر ونچ چلتی رہی۔
اسی طرح ایک کہانی میں کائنات کو دو چھپے سہاروں پر ٹکا سمجھا گیا ہے: ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی۔ خیال یہ ہے کہ وقت کے ساتھ توانائی ایک سے دوسرے میں جا سکتی ہے۔ جیسے ونچ پر دو نوب ہوں، ایک کا دارومدار ڈارک میٹر کی مقدار پر، دوسرا ڈارک انرجی پر۔
مسئلہ تب بنتا ہے جب آپ صرف آج کی حالت ملا کر مطمئن ہو جائیں۔ پل میں یہ ایسا ہے جیسے کاغذ پر حساب ٹھیک لگے، مگر اصل میں تار کی کھنچاؤ صفر سے کم ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر اصول سیدھی لکیر کی طرح چلتا رہے تو ایک طرف ختم ہونے کے بعد بھی کھینچتا رہتا ہے، اور ناممکن بات نکل آتی ہے۔
نیا قدم یہ ہے کہ انہوں نے سرحد پر بریک جیسی چیک لگائی۔ پل میں سوال سادہ ہے: تار ڈھیلا ہوتے ہی کیا کلچ ونچ کو روک دیتا ہے، یا ونچ اسے کاغذ پر منفی کھنچاؤ تک لے جاتی ہے؟ کائنات میں بھی وہ دیکھتے ہیں کہ صفر کے پاس پہنچ کر حساب کس طرف دھکیل رہا ہے، اور اسی سے نوب کی حدیں طے کرتے ہیں۔
پھر انہوں نے ایسے سیدھے فارمولے لکھے جن میں آج کی معلوم مقداریں رکھ کر آگے پیچھے کا حساب نکل آئے۔ اس سے پتا چل سکتا ہے کہ کب کوئی حصہ صفر کو چھوئے گا، کب لین دین کی سمت پلٹے گی، کب دونوں برابر ہوں گے، اور کب پھیلاؤ بے قابو ہونے لگے گا۔ دور کے زمانوں کو وہ روشنی کے کھنچنے والے پیمانے سے نشان زد کرتے ہیں۔
جب محفوظ اور غیر محفوظ نوب سیٹنگز کا نقشہ بنا تو ایک پیٹرن نکلا۔ اگر توانائی ڈارک انرجی سے ڈارک میٹر کی طرف جائے تو شرط پوری رہ سکتی ہے۔ الٹا رخ اکثر ایسی جگہ لے جاتا ہے جہاں ایک طرف صفر آ جاتا ہے اور اصول پھر بھی زور دیتا رہتا ہے، نتیجہ یہ کہ کہیں ماضی میں یا کہیں بہت آگے جا کر مقدار منفی بننے لگتی ہے۔
آخر میں بات پل جیسی سیدھی رہ گئی: صرف یہ نہ دیکھو کہ دوپہر کو پل کھڑا ہے، یہ بھی دیکھو کہ کل یا کل کے بعد ونچ کسی تار سے ناممکن کھنچاؤ تو نہیں مانگے گی۔ ایک چھوٹی سی سرحدی روک، یا نوب کی ٹھیک حد، خوبصورت خیال کو بے معنی ہونے سے بچا کر پورے سفر میں قابلِ قبول رکھ دیتی ہے۔