کمزور دروازہ، مگر اشارے سنوارنے کا ہوشیار راستہ
ایک ہلتے سے پل پر دو مزدور لمبی بانس اٹھائے نکلنے والے تنگ سوراخ کی طرف بڑھتے ہیں۔ جب دونوں کے قدم ایک جیسے رہیں تو بانس سیدھی رہتی ہے۔ ایک کا قدم ذرا سا آگے ہو جائے تو دور جا کر بانس مڑنے لگتی ہے۔
یہی خیال ایک نہایت باریک راستے میں رکھا گیا۔ چیز کا اندرونی حصہ روکتا ہے، مگر اوپر کی پتلی سطح پر برقی بار چل سکتا ہے۔ نیا کام یہ ہے کہ اوپر والے راستے کو سیدھا ہاتھ نہیں لگایا جاتا، نیچے دبی ایک پرت کو وولٹیج دے کر کھینچا یا دبایا جاتا ہے، اور اوپر کی سطح اس کھچاؤ سے بدلتی ہے۔
شروع میں گھوماؤ ایک سمت میں بھیجا جاتا ہے، جیسے بانس سیدھی اٹھائی گئی ہو۔ مگر راستے میں وہ دو چلنوں میں بٹ جاتا ہے، جیسے اب بانس کو دو قدموں کی ہلکی سی الگ رفتار سنبھال رہی ہو۔ نیچے کی کھنچائی ان دونوں کی رفتار بدل دیتی ہے، تو آخر تک پہنچتے پہنچتے رخ گھوم جاتا ہے۔
آخر میں ایک مقناطیسی دروازہ کھڑا ہے۔ اگر بانس کا زاویہ اس سوراخ سے مل جائے تو گزر آسان، نہ ملے تو بہاؤ کم۔ یہی پورا نقشہ ہے: مزدور دو چلن ہیں، ہلتا پل نیچے والی کھنچنے والی پرت ہے، بانس کا مڑنا گھوماؤ کا بدلنا ہے، اور سوراخ آخری دروازہ۔ کھنچاؤ بدلو، رخ بدلو، بہاؤ بدلو۔
کاغذ پر یہ بندوبست کچھ اصلی مادّوں کے ساتھ چلتا دکھایا گیا، جیسے ایک باریک تہہ جس کی اوپری رفتار دباؤ سے بدل سکتی ہے۔ مناسب نیچے والی پرت اسے اتنا کھینچ سکتی ہے کہ چند مائیکرومیٹر کے راستے میں بہاؤ اوپر نیچے ہونے لگے۔ بات بنی، مگر آہستہ بنی۔
یہیں کمی سامنے آئی۔ بہاؤ بدلتا تو ہے، لیکن بہت تھوڑا۔ یعنی اسے زور دار آن آف دروازہ سمجھنا مشکل ہے۔ پرانی مشکل وہیں رہتی ہے: سیدھا سوئچ بنانا اس کے بس کی بات نہیں لگتی۔
لیکن پھر وہی ہلکی لہر ایک اور کام میں کام آتی ہے۔ اگر گیٹ کا وولٹیج اوپر نیچے ہو، تو بہاؤ ایک ہی چکر میں کئی بار چوٹیوں سے گزر سکتا ہے، جیسے بانس کھنچاؤ اور ڈھیلاہٹ کے ایک دور میں سوراخ کے ساتھ ایک سے زیادہ بار سیدھ میں آ جائے۔
تو بات پلٹ گئی۔ جو چیز مضبوط سوئچ نہ بن سکی، وہ ننھے خرچ پر اشارے کی رفتار بڑھانے میں کام آ سکتی ہے۔ بانس کا معمولی سا مڑنا دروازہ بند نہیں کرتا، مگر دھڑکنوں کو زیادہ تیز ترتیب میں نکال دیتا ہے۔