جب مشینوں کا نقشہ ختم ہو جائے
ایک تنگ پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے اچانک آپ کے سامنے ایک بڑی چٹان آ گرتی ہے۔ نقشہ کہتا ہے سیدھے جائیں، جو اب ناممکن ہے۔ ہار ماننے کے بجائے، آپ اپنی چھڑی اور خیمے کی رسی کو باندھ کر ایک ہک بناتے ہیں اور چٹان پار کر لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آج کل کی مشینیں بھی بند راستوں پر چلنا سیکھ رہی ہیں۔ جب پرانی ہدایات کام نہیں آتیں، تو وہ موجودہ چیزوں سے نیا راستہ نکال لیتی ہیں۔
برسوں تک کمپیوٹر پروگرام اس مسافر کی طرح تھے جو صرف ایک چھپا ہوا نقشہ پڑھنا جانتا ہو۔ اگر کوئی ایسی رکاوٹ آ جاتی جو نقشے میں نہ ہوتی، تو مشین وہیں رک جاتی اور کام کرنا چھوڑ دیتی۔ اس کے پاس رکاوٹ کا حل سوچنے کی صلاحیت نہیں تھی کیونکہ وہ چیزوں کو صرف اسی طرح سمجھتی تھی جیسا اسے شروع میں سکھایا گیا تھا۔
اس خامی کو دور کرنے کے لیے اب مشینوں کو معلومات محفوظ کرنے کا نیا طریقہ سکھایا جا رہا ہے۔ اب مشین چھڑی کو صرف چلنے کا سہارا نہیں سمجھتی، بلکہ اس کی لمبائی، وزن اور مضبوطی کو بھی پرکھتی ہے۔ چیزوں کی ان خوبیوں کو سمجھ کر، مشین عام اشیاء کو ایک نئے اوزار کے طور پر دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔
تو اب جب مشین کے سامنے کوئی رکاوٹ آتی ہے، تو وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنی معلومات کا استعمال کرتی ہے۔ وہ دو بالکل مختلف چیزوں کو ملا سکتی ہے، جیسے رسی اور چھڑی کو ملا کر چڑھنے کا اوزار بنانا۔ یا پھر وہ کسی چیز کا استعمال ہی بدل دیتی ہے، جیسے کسی بھاری پتھر کو ہتھوڑے کے طور پر استعمال کر کے راستہ بنانا۔
بات صرف نئے اوزار بنانے تک محدود نہیں ہے۔ مشین اپنے ماحول کو بھی بدل سکتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی انسان راستہ بند ہونے پر پتھروں کی سیڑھیاں بنا لے۔ وہ اپنا انداز بھی بدل سکتی ہے، یعنی خطرے کی صورت میں ایک لمبی چھلانگ لگانے کے بجائے چھوٹے اور محفوظ قدم اٹھا کر اس مشکل راستے کو پار کر لیتی ہے۔
اگلا قدم ان مشینوں کو یہ سکھانا ہے کہ وہ اپنے بنائے گئے ان نئے طریقوں کو یاد رکھیں۔ جیسے ایک سمجھدار مسافر اپنے پرانے سفر کے تجربات سے سیکھتا ہے، ویسے ہی مشینیں اب ان حلوں کو نئے مسئلوں پر آزما سکیں گی۔ ٹیکنالوجی اب صرف لکھی ہوئی ہدایات پر نہیں چل رہی، بلکہ نقشہ ختم ہونے پر خود راستہ بنانا سیکھ رہی ہے۔